A Pilgrimage to the House of God and a Journey to the Land of the Beloved

Translated by: David Boyk

Fatima Begum

Lahore, Punjab
1890-1958

اردو میں پڑھیئے

پردہ ا ور مسلمان عورتیں

جب میں جہازکے نچلے حصے میں گئی تو وہاں عجیب تماشہ دیکھا۔ خصوصاً زیریں کے مسافروں میں جو عورتیں پردوںکے اندرتھیں انہیں جا کر دیکھا تاکہ اگر کوئی تکلیف میں ہو تو اس کی مدد کی جائے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ زمین سے لے کر چھت تک علیحدہ علیحدہ پردے باندھ کر اچھا خاصا حبس بنا دیا گیا ہے۔ اس منزل میں پہلے ہی ہوا نہیں تھی۔ اس پر اتنے بند پردے باندھنے سے جو بالکل رک گئی ہے۔ میں نے سمجھایا کہ اتنا پردہ رکھو کہ عورت کھڑی ہوئی نظر نہ آئے مگرمیری کون سنتا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عورت کو تازہ ہوا لگ جائے تو غضب ہو جائے گا۔ افسوس اسلام نے یہ تعلیم ہرگز نہیں دی۔ جو پردہ میں آج دیکھ رہی ہوں دل نہیں چاہتا کہ اس موقع پر اس ناگوار بحث کو چھیڑوں مگر جب ذکر آگیا ہے تو اظہار ِ خیال لازمی ہے۔

صبح بمبئی کےپلیٹ فارم پر دو تین حیدر آبادی رئوسا کی خواتین کی موٹریں آگئیں جوحیدر آباد کے مسافروں کوالوداع کہنے آئی تھیں۔ پلیٹ فارم پر ہزاروں مردوں کے سامنے یہ خواتین ننگے سر آدھے برقعے پہنے رونماہوئیں اور بعض نوعمر لڑکیاں باریک جارجٹ ریشم کی ساڑھیاں پہنے ہوئے بغیر برقعہ کے بھی تھیں۔ مجھے اس حال پر رنج ہوا۔ میں نے پیغام بھیجا کہ ان عورتوں سے کہو کہ سروں پر اوڑھنیاں ڈلوادیں اگرچہ انہیں ناگوار گزرا ہوگا مگر میں مجبور تھی۔ بنی ٹھنی عورت ننگے سردیکھ کر میر ےرونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اُدھر وہ حالت اور اِدھر یہ حالت ہے کہ کمرے کے اندر پردہ درپردہ ہے کہ سانس لینے تک کی گنجائش نہیں۔

بر ہیں تفاوتِ ردا از کجا ست تا بہ جا

اسلام اعتدال سکھاتا ہے۔ کل امور او سطھا کا پیغام دیتا ہے۔ ہر چیز کی انتہا معیوب ہے اور یہ دونوں حالتیں اسلامی تعلیمات کے سر تا سر منافی ہیں۔ مسلمان عورت کوصاف الفاظ میں بے حجاب ہو کر اپنا حسن اور بناوٹ سجاوٹ غیرمرد کو دکھانے سے منع کیا گیا ہے اور نیم آستین باریک ریشم کے خوبصورت لباس پہن کر مردوںمیں آنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔

الغرض رات کو تمام جہازکا چکر لگایا اور ایک گھنٹے کے بعد اپنی منزل پر واپس آئی۔ تھک کر چور ہوگئی تھی۔ کھانا کھایا، نماز پڑھی اور سو گئی۔ ہوا تیز و تند تھی مگر کمبل لحاف وغیرہ سے گزارہ ہو ہی گیا۔ اندر جا کر سونے کو دل نہیں چاہتا تھا ۔ میں سردی محسوس کر رہی تھی لیکن والدہ اورچچی صاحبہ کو ہوا نہایت مرغوب تھی۔ چنانچہ سب کے ساتھ میں نے بھی برآمدے میںرات بسر کی۔ رات کے درمیانے حصے میںہوا رک گئی تھی۔ سمندر پر گہرا سکوت طاری تھا اور جہاز نہایت متانت اور خاص رفتار کے ساتھ سوء منزل رواں دواں تھا۔


بخارا اور کوئٹہ کے حجاج

بخارا اور کوئٹہ کے لوگ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس پلیٹ فارم پر سرگرداں تھے۔ ایک آدمی کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ جب اس کے ضعیف العمر ماں باپ جہاز میں سوا رہوئے تو اس کابھی ارادہ تھا کہ ساتھ ہی سوار ہوجائے لیکن ٹکٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ روتا بلکتا انہیں الوداع کہہ کر واپس ہوا۔ ایک تنومند بخاری جہاز کے موٹے رسے کو تھام کر پلیٹ فارم سے جہاز پرچڑھ آیا۔ اس کی اس جرأت کو دیکھ کر لوگ لرزہ براندام ہو گئے کیونکہ اگر اس کا ہاتھ چھوٹ جاتا تو وہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کی نذر ہو جاتا۔ جب ہمارے پاس کھڑے ہوئے لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ تواس نے سینہ تان کر گھونسہ دکھاتے ہوئے کہا ’’مار ڈالوں گا اگر مجھ سے کوئی سوال کیا‘‘ اور یہ کہہ کر تیزی سے بھیڑ میں غائب ہوگیا۔

میں سمجھی کوئی چور یا ڈاکوہے یا پھر کوئی مفرور قیدی لیکن جب پولیس نے اسے گرفتار کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مجرم نہیں ہے بلکہ خانہ ٔخدا کا شیدائی اور روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آٓلہ وسلم کا فدائی تھا۔ زاد ِراہ نہ ہونے کی وجہ سے چھپ کر وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔

عجیب واقعہ

میں نے سناکہ ایک مسافر اپنے آپ کوبکس میں بند کرکے سامان کے ساتھ جہاز میں پہنچ گیا مگر مزدوروں نے بکس کو بے پروائی سے ٹپکا تو بکس کی کیل اسے بری طرح چبھی جس کی وہ سے وہ بے اختیار چیخ اٹھا۔ مزدور بہت پریشان ہوئے اوردیکھنے لگے کہ یہ آواز کہاں سے آئی؟ جب بکس کھولا تو اس میں سے آدمی نکلا جو ہاتھ جوڑ کرکہنے لگامجھے چھپا لو غرضیکہ اسی طرح کئی عجیب واقعات پیش آتے رہے۔

 

کھانے کی شکایت

ابھی ہم لوگ اسی جگہ بیٹھے تھے کہ ہم سے تھوڑے فاصلے پر لوگ جمع ہوگئے اورایک شورمچ گیا۔ چند بزرگوار میرے پاس ایک محضر لے کر آئے اور کہا کہ آپ اس پردستخط کریں۔ میں نے کہا کہ جب تک اس کو اچھی طرح نہ پڑھوں دستخط کیسے کرسکتی ہوں۔ میں نے محضر پڑھا۔ چند شکایات کپتان جہاز کولکھی گئی تھیں۔

۱۔ چائےکے لئے گرم پانی ٹھیکیدار نہیں دیتے اور دو پیسہ فی کیتلی پانی مانگتے ہیں۔

۲۔ جوکھانا ہمیں ملتا ہے اس میں گھی کے بجائے گھاس کا گھی یا ویجی ٹیبل آئل ملایاجاتا ہے جسے کھاکر ہم اور ہمارے بچے بیمار ہوجائیں گے۔

۳۔ کھانا اچھا اور وافر نہیں دیا جاتا اس کاتدارک کیا جائے۔

اس پر میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر ہم اس جھگڑے کوٹھیکیداروں سے طے کروا دیں تو پھر آپ کو کیا اعتراض ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ ہوجائے تو پھر کوئی شکایت نہیں۔

میں نے ٹھیکیداروں کوبلایااور ان سے کہا کہ ان تین شکایات کا فیصلہ کردیاجائے توبہترہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ گرم پانی بغیر پیسے دیئے نہیں ملے گاکیونکہ اس طرح سینکڑوں افراد گرم پانی لینے آئیںگے اور ہم اس مطالبے کو ہروقت پورا نہیں کرسکتے۔

ان کا جواب معقول تھا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اگر حاجی اپنا بندوبست خود کریں تو آپ ایک سماور اور ایندھن ان کے حوالے کریں۔ اس پر ان لوگوں نے رضامندی ظاہر کی۔ گھی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آپ لوگ تحقیق کروالیں ہم خالص گھی استعمال کرتے۔ بناسپتی گھی یا تیل کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ اوریہ بات بھی ناقابل تسلیم ہے کہ کھانا پوری مقدارمیں نہیں دیاجاتا۔ کھانا اتنا دیا جاتا ہے کہ لوگ آدھاکھاتے ہیں اور باقی نذر ِ دریاکردیتے ہیں۔ اس پر ان لوگوں نے کہاکہ کھانا بدمزہ ہوتا ہے اور کافی نہیں ہوتا۔ تنو ر کی روٹی فی کس چارکافی نہیں بعض لوگوں کو پانچ ملنی چاہئیں۔ ٹھیکیداروں نےمنظور کیااور بڑی مشکل سے یہ جھگڑا ختم ہوا۔

معلوم نہیں کھانے کے معاملے میں لوگ باربار کیوں لڑتے ہیں حالانکہ کھانا اتنا برا بھی نہیں ہوتا۔ بنگالی، مدارسی، یو پی والے، پنابی۔ سندھی، سرحدی، بخاری ایک قسم کا کھانا بخوشی نہیں کھا سکتے۔

میری رائے میں اگر آئندہ ہوٹل میں اس قسم کا بندوست کیا جائے کہ کھانے کی قیمت پیشگی نہ لی جائے بلکہ ہر مسافروقت پر قیمت ادا کرکے کھانا کھائے توبعض لوگ ڈبل قیمت دے کرکھائیںگے اور بعض ایک آنہ دو آنہ دے کرخشک روٹی پر گزارہ کرلیں گے۔ جن لوگوں نے بھیک مانگ کر بمشکل سوسو روپیہ کا ٹکٹ لیاہے اور جو لوگ چنے چبا چبا کر یہ دن گزار دیتے ہیں انہیں سو روپے بہت ناگوار گزرتے ہیں۔

بخاری اورسرحدی لوگ چاہتے ہیں کہ ایک وقت پر ایک دنبہ کے کباب انہیں مل جائیں آخر سوروپیہ آمد و رفت کے دیتے ہیں تو کیوں نہ دنبے کے کباب روزانہ کھانے کو ملیں غرضیکہ میری سمجھ میں توبات نہیں آئی کہ ان شکایات کا سدباب کیا ہوگا؟

اس جھگڑے میں عصر کا وقت آگیا۔ نماز ادا کی اور پھر بیگم سربلند جنگ کے پاساوپر چلی گئی۔ بہت سے بزرگ بیٹھے تھے اور نہایت پاکیزہ گفتگو ہورہی تھی۔ مولانا عرفان صاحب نے تربیت  اور ماحول کے تاثرات پر دلچسپ تقریر کی۔ آپ کا فرمانا بالکل بجا تھا کہ عملی تعلیم کا اثر پائیدار اورموثر ہوتاہے اور اگرایسا نہ ہوتا تو خداند کریم اپنے نبیوں کو نمونہ بناکر نہ بھیجتا۔

مگر نبی عملی تعلیم کانمونہ بن کر آتا ہے تاکہ اس سے تماملوگ سبق سیکھیں اسی اثناء میں مغرب کی اذان ہوئی اور جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے کا شرف بیگم سربلند جنگ کے ہمراہ حاصل ہوا۔

میرے سر میں درد ہو رہاتھا کل کے چکروںکااثر بھی باقی تھا۔ کھلی ہوئی ہوا میں بیٹھ کر دو لقمے کھا لئے اور سر میں تیل ڈلوایا نماز پڑھی اور سوگئی۔

والدہ ماجدہ کی طبیعت بھی آج کچھ ٹھیک نہیں تھی ان کو سرشام سلا دیا تھا اورمیں بھی سرشام ہی سونا چاہتی تھی۔

ممبران حج کمیٹی کی خدمت میں

۱۳مارچ بروز منگل آج صبح ہی نمازکے بعداٹھی تھی کہ ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ہندوستانی نژاد معلوم نہیں ہوتا۔ ویس لکھا پڑھا اور مہذب معلوم ہوتا ہے۔ معلوم ہاکہ یہ چینی ترکستان کےشہرکاشغر کاباشندہ ہے۔ تجارت کے سلسلے میںسری نگر آتا جاتارہتاہے اور اب ڈیڑھ ماہ سے گھوڑے کی پیٹھ پر ۳۰میل روزانہ کا سفرکرکے سری نگر اور سری نگر سے راولپنڈی کے راستے کراچی سے سوارہوا تھا۔

اللہ اکبر کس قدر جوش تھا اس مسلمان میں کہ اتنا طویل فاصلہ طے کرکے جہاز تک پہنچا تھا خدا اس نوجوان کی طرح دوسروںکوبھی توفیق سعادت عنایت فرمائے۔

سنا گیا تھا کہ کراچی سے جو مسافر سوارہوئے ہیں ان سے صرف سو روپے ٹکٹ آمد و رفت کا لیاگیا بلکہ بعض سے اس سے بھی کم مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ لوگ دومہینے سے کراچی میں اس مبارک سفر کے شوق میں پڑے ہوئے تھے۔ آخرمجبور ہوکر حکام کمیٹی نے دیکھا کہ ملتی ہوئی رقم کوہاتھ سے نہ جانے دیجئے جو کچھ مل جائے غنیمت ہے جس قدر بھی ملا لے کر سوار کردیا۔ بمبئی سے تو ایک برس سے بڑا بچہ نصف کرایہ کے بغیر سوار نہ ہوسکا مگر یہاں بڑے بڑے بچے مفت سوارہوگئے۔

معلوم ہواکہ ممبران حج کمیٹی کراچی نے ان لوگو کو بہت امداد دی۔ اس پر لوگ بے تحاشہ بمبئی کی حج کمیٹی کو صلواتیں سنارہے تھے۔ بمبئی ایک آئینی مقام ہے اور یہاں زیادہ سنجیدگی اورقاعدے سے باتیں عمل میں آتی ہیں۔ کراچی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے وہ درجہ نہیں رکھ سکتا۔

الغرض جوکچھ بھی ہو یہاں سے کنگالوں کی ایک ایسی جماعت سوار ہوئی ہے جس کے بدن پر ثابت کپڑا بھی نہیں ہے۔ معلوم نہیں وہاں پہنچ کریہ لوگ(حالانکہ مفلسی کی وجہ سے ان پرحج فرض نہیں ہے) کیا کچھ تکلیف کا باعث نہ ہوں گے۔

افسوس ہے کہ ہندوستان کے سینکڑوں مسلمان امرا جو خزانوں پرسانپوں کی طرح بیٹھے ہیں انہیں کبھی اس فریضے کی ادائیگی کاخیال نہیں آتا۔ اگر آتا ہے توان مفلس قلاش افراد کوجوحجاز میں جاکر اوربھی مصیبت اورافلاس پھیلانے کا باعث ہوتے ہیں آج میں نے دو چاربزرگوں سے اخبار خاتون کے لئے مضامین بھیجنے کا وعدہ بھی لیا تھامولانا حسرت موہای نے بھی اخبارخواتین کے لئے اپنا کلام دینے کا مزید وعدہ فرمایا۔

صبح قرآن شریف کی تلاوت کررہی تھی کہ سامنے سمندر میں کسی بھاری چیز کےگرنے کی آواز آئی۔ دیکھا تومعلوم ہوا کہ بھینس کے برابر بڑی مچھلیاں اپناسر ابھارتی ہیں اور پھر ڈوب جاتی ہیں اور برابر جہازکے ساتھ تیرتی ہوئی جارہی ہیں۔ یہ نظارہ بھی دیدنی تھااورلوگ شوق سے دیکھ رہے تھے۔ آج کچھ چڑیاں اور بگلے اڑتے ہوئے نظرآئے جس سے گمان ہوا کہ کسی طرف کنارہ قریب ہے۔ دوپہر کوکھانا کھا چکے تھے کہ سامنے ایک بے آب وگیاہ پہاڑ نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہ سلطان مکلا کی پہاڑی ہے اورکچھ مسلمانوںکی آبادی بھی ہے۔

دورسےتو چاروں طرف سمندر میں متعدد خشک اور پہاڑی نظر آتے تھے اور آبادی اورمکانوںکا نام و نشان بھی نہ تھا مگر جہازکے خلاصیوں سے دریافت کیا تو انہوں نے نام بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اس جگہ نئی آبادی بھی ہے پہاڑی شام تک ساتھ ساتھ گئی۔

جہازکی زندگی

جہازکی گشت سے تقریباً دس بجے اپنی فروگاہ پر واپس لوٹی تودیکھا کہ جہاز کےمسافروں میں ہلچل مچھی ہوئی ہے۔ معلوم ہواکہ ڈاک کا کوئی بہت بڑا جہازپاس سے گزر رہاہے جہاز کی زندگی بھی عجیب زندگی ہے ایک اچھی خاصی کانفرنس قائم ہوجاتی ہے مختلف اقطاع ہند کے باشندے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیںمختلف الخیال مختلف مزاج کے لوگ ہوتے ہیں مگر سب ایک مرکزکے خواہاں ایک مرکز کے متلاشی ہیں اور ایک ہی لگن سب کے دلوں میں لگی ہے۔

آبادی کا منظر

۱۵مارچ جمعرات کے دن دور سے پہاڑیاں نظرآنے لگیں۔ دن بھر میں کئی جہازچھوٹے موٹے، دور اور نزدیک سے گزرے۔ معلوم ہوتاہے کہ زمین کچھ قریب ہوگی میں تلاوت میں مصروف تھی کہ مجھے چند بزرگوں نے بلا بھیجا۔ اب یہ سوال درپیش تھاکہ جو لوگ جہازمیں ہیں جنہیں برائے نام کرایہ لے کر سوار کردیاگیا تھاان کے پاس معلم کوفیس دینے اور جہازسے اتر کر ٹیکس وغیرہ دینے کے لئے پیسہ نہیںہے۔ ان کاحال کیا ہوگا؟ چنانچہ تیس چالیس افرادایسے تھے کہ جن کے پاس مطلق روپے نہیں تھے۔ سولہ آدمی تو ایسے تھے جن کے پاساحرام باندھنے کی چادریں بھی نہیں تھیں اس عرصے میں میں نے اوربیگم حسرت موہانی نے مل کردس پندرہ روپے چندہ جمع کرلیا تھا۔

کاشغر کی عورتیں

مردوں کے احرام مل چکے تو عورتوں کی باری آئی کاشغر وادی ترکستان اور بخارا کے مہاجرین کی عورتوں کی حالت قابل دید ہے۔ اگرہوسکا تو فوٹو بہم پہنچائوں گی۔ انچی پوی لمبی عورتیں پائوں تک گاڑھے کاکرتہ جس کا رنگ مٹی سے زیادہ میلاہے۔ اور ململ کے رومال سے منہ پرلپٹا ہوا ہے۔ آنکھوں کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے سرپر یک چھوٹی سی ٹوپی رومال کے اوپر رکھی ہوئی ہے۔

تعجب ہے کہ سر اور منہ کے ڈھانکنے کی اتنی احتیاط کی گئی ہے اور سینہ بالکل کھلا ہوا ہے جسے دیکھ کر شرم آ جاتی ہے۔

ان عورتوں کو احرام باندھنے کے لئے ایک ایک رومال دیا گیا مگر دوسرا کرتہ نہیں کہ اس کو اتار کر اسے پہن لیں۔ جہاز پر سے کپڑے مانگے گئے ایک مخیر فیاض بمبئی کے ریس نے دونئے کرتے لمبے اوردو پاجامہ زنانہ لا کر دیئے اور بقول مرزا ظفر صاحب کے کہ کنگلی فوج کو کواجلاکرکے لے جائیں گے بہت بہت کچھ اجلا بنانے کا سامان پیداہو گیا ہے اوریہ صرف ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

آٹھ دس بچے لڑکے اورلڑکیاں بھی اس جماعت میں موجود ہیں جن کو احرام بندھوایا گیا حالانکہ نہ ان پرحج فرض ہے نہ یہ حج کے مقصد کو جانتے پوجھتے ہیں مگرموٹے موٹے لال چقندر سے رخسارے چوڑے چکلے سینے سرخ سفید رنگ طباق کے سے ہنستے ہوئے بھولے چہرے ہیں جو امراہزاروں روپیہ دے کر بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ ان کا رتبہ بوجہ جہالت اور مفلسی کے گائے بیل سے کم نہیں ۔ کاش ان ہستیوں کے سدھارنے کی کوئی تدبیر ہوجاتی مگر دنیا میں نفسانفسی کاعالم ہے کہتے سب ہیں مگر کرنے کی ہمت کسی میں نہیں ہوتی۔خودغرضی کے دوردورے ہیں احرام وغیرہ بانٹ کر واپس آئی۔

پردے پر ناگوار گفتگو

ایک بزرگ نے جن کو بوجوہ جہالت کے عورت ذات کے ساتھ بات کرنے کی بھی تمیز نہ تھی۔ ایک کتاب پیش کی ار کہا تحفتاً دیتاہوں چونکہ آپ پردے کی مخالف ہیں اس لئے یہ پیش کرنے کی ضرورت آئی۔

میں نے کہا آپ نے کس بات سے یہ نتیجہ نکالا کہ میں شرعی پردے کی مخالف ہوں حالانکہ میں خود شریعت کی حدود کے اندرہوں۔

آپ نےکہا کہ تمہارے خیالات پردے کے بارے میں کیا ہیں؟

میں نےکہاکہ شرعی پردہ یہ ہے کہ عورت اپنی خوبصورتی، زینت اور بنائو سوائے شوہر کے کسی کو نہ دکھائےمگرمنہ کھلا رکھ کردنیاکے کام کاج میں شریک ہو تو کچھ ہرج نہیں۔ یہی پردہ صحابیات کا تھااوریہی آج تمام ممالک اسلامی میں مروج ہے۔آپ نے اس پرجھنجلا کر نا مہذب الفاظ کہئے۔ افسوس! کہ میرے بعض بھائیوں نے سنے اور دبی زبان سے ان کو روکا۔ مگر روکنے کے طریقہ سے نہیں روکا خیریہ کتاب دو دو پیسہ میں جہازپر فروخت ہوچکی ہے۔ بیگم محمداللہ اس کتاب کی شائق تھیں۔ میں نے کہا تھاکہ چھوڑو۔ ایسی بیہودہ چیز کو لو ہی مت جس سے دل دکھے مگر یہ نہ معلوم تھاکہ اس کتاب میں دائرہ تہذیب سے باہر ہوکر اچھی خاصی پھکڑبازی کی گئی ہے۔اور کسی بہو بیٹی کے پڑھنے کے لائق نہیں ہے۔ نئی تعلیم یافتہ لڑکیوں کو نعوذ باللہ رنڈیوں کا اور بدکارعورتوںکا مرتبہ دیا گیاہے۔ ایسی کتابیں تمام لے کر جلا دینی چاہئیں اگر اسلام اسی کا نام ہےتو میں ڈرتی ہوں بہت سے نوجوان مسلمان اس کو سلام کردیںگے۔ ان کمبخت اعتراض کرنے والوںکو معلوم نہیں کہ یہ حرکتیں اسلام کو ضعف پہنچانے والی ہیں یا فائدہ پہنچانے والی۔

بہرحال وہ کتاب بیگم محمد اللہ کو بھیج دی۔ آپ نے پڑھی ، ہنسی بھی اورروئیں بھی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ خدائے تعالیٰ مسلمانوں کوعقل کے ناخن دے اورجو کام کریں لوگ دائرہ تہذیب کے اندررہ کر کریں اسلام نے کبھی پھکڑبازی کی تعلیم نہیں دی اور سمجھانےکےطریقے ایسے غیرمہذب نہیں ہوسکتے۔


مصری خواتین سے ملاقات

جس جگہ میں نے نماز پڑھی تھی میرے پاس ہی چند نوجوان مصری خواتین نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے عربی کے بے ربط جملوں سے اپنا کام نکالنا چاہا جب انہوںنے ایک ہندی کی زبان سے عربی جملے سنے تو بہت متعجب ہوئیں۔

میں نے پوچھا کہ تم لوگوں میں سے کوئی انگریزی زبان سے بھی واقف ہے؟ توانہوں نے پچھلی صف میں ایک نوجوان مصری خاتون کی طرف اشارہ کیا اور کہا منیرہ خانم انگریزی جانتی ہیں۔ ان کےہمراہ ایک اور بھی نوجوان حسین خاتون تھیں جو انگریزی تھوڑی سی سمجھ سکتی تھیں۔ منیرہ خانم سے میری گفتگو شروع ہوئی اورہر موضوع پربات چیت ہوئی۔

ماشاء اللہ نہایت ہوشیارخاتون ہیں۔ بہت دیرتک مصری عورتوں کے مدارس اوران کی تعلیمی حالت پر، پردہ پر، انتظام خانہ داری پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ معلوم ہوا کہ مصری بہنیں زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کر رہی ہیں۔ ہوا بازی میں بھی مشاق ہیں۔ عورتوں کی ایک نہایت پراثر انجمن ہدیٰ خانم شعرادی پاشا نے قائم کی ہے، جو خوب کام کر رہی ہے۔

ہماری ہندوستانی بہنوں کو اپنی مصری بہنوں کی ترقی سے سبق لیناچاہئے۔ میں نے منیر خانم سے کہا کہ اگر مجھے مصری کتابوں کی جو لڑکیوں کے مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہیں، ضرورت ہوگی تو کیاوہ روانہ کردیں گی۔ انہوں نے وعدہ کیاہے کہ ضرور روانہ کریں گی۔

اس کے بعد یہ معمول تھاکہ جب کہیں حرم شریف میں وہ مجھے نظرآتیں، میں خود ان کو بلاکر بات کرلیتی یاوہ مجھے بلا لیتیں۔

اس موقع پر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں عربی زبان میں اس قدرمہارت نہیں رکھتی کہ اپنی بہنوں سے تبادلہ خیالات کرسکوں۔

آج پھر طواف کرنا ضروری تھا۔ معلم نے ہمراہ جاکر طواف کرایا۔ سعی صفا مروہ بھی کی۔ اس سے قبل روز ِ اول جوسعی میں نے والدہ صاحبہ کے ہمراہ کی تھی وہ رات کے وقت تھی۔ اس وقت صفامروہ کے بازارمیں ہجوم کم تھااور نجدی لوگ بھی اس وقت تک دا خل حرم شریف نہیں ہوئے تھے مگر یہ سعی جو آج ہم لوگوں نے کی یہ تو ایک نہایت سبق آموز کوشش تھی۔

صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جو اس بازار کے دونوں جانب واقع ہیں۔ پائو میل کایاکم کا فاصلہ دونوں پہاڑیوں کے درمیان ہوگا۔ یہ ایک بارونق بازار ہے۔ دونوں جانب دکانیں ہیں۔ چاشت کاوقت تھا۔ بازار میں سودا خریدنے والوں کی بھی رونق تھی۔ سعی کرنے والوں کی بھی کثرت تھی۔ پھر لطف یہ کہ بعض لوگ ایک پہاڑی پر سے آتے تھے اور بعض دوسری پرسے خوب راستے میں مڈ بھیڑ ہوتی تھی۔ ایک مخصوص جگہ پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی تقلید میں دوڑنا بھی پڑتا ہے اور بڈھے بڈھے لوگوں کویہاں دوڑتے ہوئے دیکھا گیا خصوصاً نجدی لوگ تو اس مقام پر خوب زور سے دوڑتے ہیںجو قسمت کا مارا راہ میں حائل ہو ضرور ٹھوکر کھا گیا یاگر گیا۔

مصری خواتین سے ملاقات

شام کی نماز آج میں نے مصری خواتین کی صف میں پڑھی۔ میرے برقع اور احرام سے مصری عورتوں کو گمان ہےکہ میں ہندی نہیں ہوں۔ وہاں مصری کونسل مقیم جدہ حافظ عامر صاحب کی خانم صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔

ان کانام نعمت خانم صاحبہ تھا۔ خوب انگریزی بول سکتی تھیں۔ عشا کی نمازتک ان سےہر قسم کی باتیں مصر کے متعلق ہوتی رہیں۔ حج کے بارے میں آپ نے فرمایاکہ ’’خداوند تعالیٰ کامقصد حج سے صرف یہ نہیں تھاکہ لوگ آئیں اور خانہ کعبہ کا طواف کرکے ارکان حج ادا کرتے ہوئے بغیر کسی روحانی اور اخلاقی سبق سیکھے ہوئے واپس چلے جائیں۔ حج کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس لئے مسلمانوں پر فرض کیا تھا کہ وہ ہر سال تمام اکناف عالم سے جمع ہوں۔ ایک دوسرے سے ملاقات کریں تبادلہ خیالات کریں۔ ایک ملک کے حالات دوسرے ملک والوں کو ایک دوسرے کی زبانی معلوم ہوں۔ تجارتی فوائد حاصل ہوں۔ سیاسی گتھیاں سلجھ جائیں۔ محبت باہمی قائم ہو۔ تبلیغ اسلام کے ذرائع سوچے جائیں۔ غرض کہ حج کے فرض میں کیا کیا فلسفے مسلمانوں کے فائدے کے لئے رکھے گئے تھے۔ اس کو ایک بہت بڑی سالانہ کانفرنس کہنا چاہئے مگر اب حج کی صرف یہ صورت باقی رہ گئی ہے کہ پچاس فی صدی مفلس اور کنگلے بھرے ہوئے ہیں جن کو نہ تہذیب سے واسطہ نہ تعلیم سے تعلق ہے۔ کچھ علما ہیں جنہوں نے اسلام کی حدود کو محدود کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ بہت کم اور دولت مند اور فارغ البال اورروشن ضمیرضرورت زمانہ سے واقف اس مجمع میں ہوں گے جو حقیقت میں دیدہ ٔ  بصیرت لے کر آئے ہیں۔

دولت مند اور تعلیم یافتہ لوگ حج کاخیال تو شاذ و نادر ہی دل میں لاتے ہیں۔ آخر اتنی تکالیف اٹھاکر آیں تو یہاں سے ان غیرمہذب اوروحشی لوگوں کے دھکے کھاکھا کر چلے جائیں جن کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ عورت کی عزت کیا ہے اور کس طرح تہذیب کے ساتھ عورت کو راستہ دیناہے۔‘‘

تین نشانوں والی عورتیں

آج سوڈانی عورتوں کے ایک گروہ پر نظر پڑی۔ ان کے رخساروں پر بڑے بڑے زخم کے نشان ہیں۔ ایک ایک انچ کے فاصلہ پر ایک ایک رخسار پر تین تین نشان جو قریباً تین تین چار چار انچ لمبے ہیں۔ خوب نمایاں ہیں۔میں ان نشانوںکو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ ان عورتوں کے رنگ سیاہ، ہونٹ موٹے موٹے نمایاں طور پرباہر نکلےہوئے ہیں اور ان ہونٹوں کو سیاہ سرمے سے گود کر نیلگوں بنانے کی کوشش کی گئی ہے بعضوںکا اودااور بعضوں کا سبزی مائل سیاہ رنگ ہو گیاتھا۔

میں نے پوچھا کہ یہ زخم کیوں لگائے گئے ہیں تو معلوم ہوا کہ سجاوٹ اور حسن میں چار چاند لگانے کے لئے زخم لگائے گئے ہیں۔ مگر مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی زمانہ میں غلاموں کی تجارت اور لوٹ مار بہت زوروں پر تھی اورشرفااپنے بچوںکوزخمی کرکے نشان لگا لیتے تھے اور یہ نشان اس واسطے تھاکہ یہ لوگ عالی خاندان ہیں اور غلامی کی دستبرد سے محفوظ رہیں۔ اب توبہت لوگوں کو یاد بھی نہیں رہاہوگا کہ ان زخموں کی وجہ کیا ہے صرف رسم و رواج کے خیال سے نشان کردیتے ہیں۔ دوران حج سینکڑوں مرد اور عورتیں ان نشانوں سے مزین نظر آئے۔

ایک پیدل آنے والاحاجی

حرم شریف میں ایک شخص کاحال سنا کہ جو پیدل حج کے لئے ہندوستان سے روانہ ہوا تھا۔ راستے میں دو مقامات پرگرفتارہوا۔ اس کے پاس پاسپورٹ نہیں تھااور آج کل حجاز میں جنگ جاری تھی۔ بیچارا جاسوس سمجھ کر پکڑا جاتا رہا۔ آخررو دھو کر اورمنت سماجت کرکے چھوٹ آیااور پہنچ گیا۔اس کے حالات بہت عجیب ہوں گے کاش کہ اس نے اپنا سفرنامہ لکھنے کی تکلیف گواراکی ہوتی۔

سائیکل سوارحاجی

دو سائیکل سوار حاجی بھی آپہنچے۔ اللہ اکبر اللہ تعالیٰ کے فدائی کس کس طرح سے حاضر ہوتے تھے۔ ان سب کا یہ جذبہ ٔ ایمانی قابل تعریف تھا۔ سائیکل سوار سے تو ملاقات بھی ہوئی تھی اورمعلوم ہوا کہ انہوں نے اپنا سفرنامہ قلمبند کیا تھا جو بہت دلچسپ تھا اور مولانا حسرت موہانی صاحب کی امدادسے شائع کریں گے کیونکہ وہ بھی کانپور کے رہنے والے تھے۔

ایک سوڈانی سے ملاقات

ایک دن مقام ابراہیم پر نماز پڑھنے کےبعد چاہ زمزم کی دیوار سےسہارا لگاکر بیٹھ گئی تھی کہ ایک نہایت سیاہ رنگ کا حبشی تلاوت میں مصروف دیکھاوہ میرے پاس ہی بیٹھا ہواتھا۔ معلوم ہوا کہ ملک سوڈان کا باشند ہ ہے مگر تعلیم یافتہ تھااورجامع ازہر کا پڑھاہوا تھا۔ اس کی معلومات بھی وسیع تھیں۔ میں ٹوٹی پھوٹی عربی میں اس کے سوالات کا جواب دے رہی تھی۔ وہ کچھ انگریزی کے الفاظ بھی جانتاتھا میں نےسوڈان کے حالات اورخصوصاً وہاں کی تعلیمی حالت پر سوالات کئے۔ افسوس کہ کوئی مترجم نہ تھاورنہ خوب معلومات حاصل ہوتیں۔

مجھے تو اس بات پر مسرت حاصل ہوتی تھی کہ اسلام کے رشتے نے اس قدر دور دور کے لوگوں کو باہم مربوط کردیاہے کہ دل ایک سوڈانی سے مل کر خوش ہوجاتا ہے۔ ایک مصری سے تبادلہ خیالات کرکے خوش ہوتاہے کیونکہ وہ دونوں مساوی طورپراسی خیال کی تائید کرتے ہیں کہ جس کی تائید کے لئے میں اتنی دور و دراز مسافت طے کرکے یہاں آئی ہوں اتحاد خیالات اور اتحاد مذہب ایک عجیب کشش اورعجیب رشتہ ہے۔

میں نے موٹرچلائی

یہاںمیں نے خود موٹرچلائی اورکیسا لطف اس میدان میں موٹر چلانے کا حاصل ہوتا تھا نہ کوئی خوف تھا نہ خطر، نہ کسی کے کچلے جانے کاڈر تھا نہ آدم نہ آدم زاد بےتحاشہ جدھر دل چاہے چلاتے چلے جائو۔ جہاں ٹیلا آتا تھا یاریت تو ڈرائیور نکال لیتاتھااوراچھی سڑک ہوتی تومیرے حوالے کردیتا۔ یہ عرب ڈرائیور بہت ہوشیار نوجوان تھا۔ دلدل اور ریت میں سے اس چابکدستی سے گاڑی نکالتا تھا کہ واہ واہ کہنے کوبےاختیار دل چاہتا تھا۔

دانت مدفون کیا

ہندوستان سے روانگی کے وقت ایک بھائی نے اپنا دانت دفن کرنے کےلئے دیاتھا۔ میں حیران تھی کہ عورتوں کو تو قبرستان میں داخل نہ ہونے دیتے۔ اس دانت کو کیسے دفن کروں گی۔ ایک سپاہی کودانت اور ۴پیسےدیئے اس نے مٹی ہٹاکرفوراً دانت کو اس میں دبادیا۔ میں خوش ہوئی کہ امانت جائے مقصود تک پہنچ گئی۔ کسی خوش نصیب کو یہ سعادت نصیب ہوسکتی ہے کہ اس کے جسم کاکوئی حصہ اس ارض پاک میں رہ جائے۔دیگرسپاہیوں اور مزدوروں کوبھی دودوچار قرش دیئے۔

بالشکویکوں کا ستایا ہوا ایک بخاری مہاجر

آج باوجوہ انتہائی مصروفیتوں کے ایک بخاری مہاجرکے ہاں دعوت میں شریک ہونا ضروری تھا صبح سے کئی مرتبہ یہ لوگ بلانے کے لئے آ چکے تھے۔ میں غسل کرنے اور اسباب باندھنے میں ایسی مصروف تھی کہ وقت نہیں نکال سکتی تھی۔ ناشتہ کی دعوت منظور کی تھی مگرکھانے کاوقت ہو گیا تھا۔ تو تھوڑے وقت کے لئے ان کے ہاں گئی ۔

شوہر توپشاور کارہنے والاہے مگر بی بی بخارا کی ہیں۔ بچے تمام اردو بولتے ہیں اورفارسی بھی نہایت عمدہ بولتے ہیں۔ ان لوگوںکا نوجوان مہذب اورخوش اخلاق صاحبزادہ مشین کے ساتھ گل بوٹے بنانے کی دکان رکھتا ہے اور کام سب لوگوں سے بہتر اورستھرا بناتا ہے۔ میں نے کئی درجن رومال اس سے بنوائے اور سب کے نام ان پر لکھوائے۔ بغیر پنسل سے لکھنے کی مشین کے ساتھ خوشخط نام دھاگے سے لکھ دیتا ہے اور چشم زدن میں لکھتاتھا۔ وعدہ کابھی پابنداوربےحد محنتی آج کل آٹھ دس روپیہ یومیہ کاکام کرلیتا تھاحالانکہ نہایت ارزاں کام کررہا تھا اگر کچھ گراں ہوتاتو خوب کماتا۔

ان لوگوں کا بخارا میں تجارت کا سلسلہ تھا۔ لاکھوں روپیہ کمایا دوست کے ڈھیر جمع کرلئے کچھ وقت کے لئے باپ بخارا میں وزیر بھی رہ چکاہے مگر جب روسی بالشویکوں کا زمانہ آیاتو انہوں نے ایک دن میں سب کچھ چھین چھان کر شہر بدر ہونے پرمجبور کیا۔

عبرت کی زندہ داستان

ان لوگوں کی کہانی اور حالات سن کرایسارحم آتاہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس صاحبزادے کی ماں سے تمام گفتگو فارسی میں ہوئی۔ عورت اپنی حالت کو یاد کرکے رونے لگی۔ بیٹی اور جوان بہو بھی آبدیدہ ہوگئیں کہ کیسے عالی شان قصروں میں رہتے تھے۔ درجنوں باندی اور غلام۔ فرش فروش سونے اورچاندی کےبرتنوں میں کھانا کھاتے تھے کہ بیک بینی و دوگوش گھروں سے نکل جانے پرمجبور کئےگئے۔ بھرےپرے گھروں سے ایک تنکا بھی اٹھانے کا حکم نہ تھا۔ بال بچوں کو سمیٹ کر نکل کھڑےہوئے اور سیدھے مدینہ منورہ کارخ کیا۔ کچھ جائیداد شوہر کی پشاور میں تھی ۔ اس کا کرایہ تین چار سو روپیہ ماہوار آ جاتا ہے جس سے گزر بسرہوتی جاتی ہے۔ مدینہ منورہ میں مکان اپنا خرید لیا ہے۔

بالشویکوںکی چیرہ دستیاں

میں نہایت شوق سے بالشویکوں کے حالات دریافت کرتی رہی حس اتفاق سے ان کے ستائے ہوئے لوگوں سے حالات سننے کاموقع مل رہا تھا۔ بتایا گیا کہ کمبختوں نے مسجدیں توڑ دی ہیں اور ملک میں دہریہ پن پھیلا دیا ہے۔نعوذ باللہ خدائے تعالیٰ کی ہستی کے ہی قائل نہیں ہیں۔ پچانوے فیصدی آدمی قتل و غارت کرکے نکال دیئے ہیں یا جان سے ماردیئے گئے ہیں غرضیکہ انتہائی ظلم و ستم کئے، خالی ہاتھ نکلنے اور مکان خالی کرنے کا حکم دے دیتے ہیں جو انکار کرے اس کو قتل کے سوائے کوئی سزا نہیں دی جاتی۔

یہاں کھانا کھاہی کیا سکتی تھی۔ ان لوگوں کا قصہ ہی ایسا درد انگیزتھا اور سننے میں ایسی دلچسپی تھی کہ چند منٹ کے ارادے سے نکلی تھی پورا گھنٹہ صرف ہو گیا۔میں حیران ہوئی کہ یہ لوگ ہندوستان سے بیاہ کر بیٹے کے لئے بیوی لائے ہیں مگر عرب عورت سے نکاح نہیں کیا حالانکہ نہایت حسین لڑکیاں مدینہ منورہ میں موجود ہیں مگر ان لوگوں نے کہا کہ عرب کی عورت بہت نکاح کرتی ہے اور جھٹ طلاق لینے کو تیار ہو جاتی ہے بعض دفعہ متواتر کئی کئی سال ایک شوہر کے ساتھ بسر کرکے اور کئی بچوں کی ماں بن کربھی ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان کی عورت کبھی اس امر کو پسند نہیں کرتی یہ ان لوگوں کے خیالات تھے اوراس وجہ سے وہ ہندوستان سے ایک معمولی شکل کی لڑکی بیاہ لائے تھے۔

Source: Fatima Begam. Hajj-e Baitullah o Safar-e Diyar-e Habib (A pilgrimage to the house of God and a journey to the beloved countries). Lahore: Kitabkhana-e Paisa Akhbar, 1959.