A Travel Account of Iraq and the Hijaz

سفرنامہ عراق و حجاز Translated by: Daniel Majchrowicz. Original language: Urdu
Baghdad, Iraq
1936
author-info

Begum Hasrat Mohani, Nishat al-Nisa

Unnao, Uttar Pradesh, India
1885-1937

از کیمپ حج کراچی

یکم فروری 1936ء روز شنبہ

عزیزہ نعیمہ سلمہا۔ بعد دعا کے معلوم کرو کہ تم سب سے چہار شنبہ رخصت ہو کر ۹ بجے شب کو دہلی پہنچے۔ گاڑی موجود تھی۔ دہلی ہی سے چھوٹتی ہے۔ سب سامان اپنا اور ساتھیوں کا رکھ دیا گیا۔ گیارہ بجے روانہ ہوئے اور دوسرے روز ۴بجے بٹھنڈا پہنچ کر گاڑی بدلنا پڑی۔ مگر غنیمت ہوا کہ ڈبہ کاٹ کردوسری گاڑی میں لگا دیا گیا۔ سامان اتارنے کے تمام جھگڑے سے نجات ملی۔ رات بھر چلے۔ سونے کے لئے سب کوجگہ مل گئی۔ اب سمرسٹر میں پنجشنبہ کی شام کودوسری گاڑی ملی وہ اس قدر بھری ہوئی تھی کہ بہ مشکل تمام ایک ڈبے میں کچھ سامان اور مرد بیٹھ گئے۔ زنانے ڈبے میں مجھے، رضوان کو اور خوشرنگ  کو بھرا۔ گاڑی چل دی۔ ڈبہ مختصر اور عورتیں سب پنجابی۔ ان سب نے بڑازبردست بائیکاٹ کیا۔ کوئی آرام کر رہی ہیں، کوئی بچوںکوپھیلائے او ر جگہ گھیرے ہیں۔ چار انگل جگہ بھی نہ دی۔ رضوان پیپے پر بیٹھ گیا۔ خوشرنگ بوا پاخانے کےپاس زمین پر بیٹھیں۔ زمین پربھی ان کا (پنجابی عورتوں) کا قبضہ اور سامان تھا۔ کچھ سامان اپنا بھی اس میں تھا۔ بہرحال سخت تکلیف برداشت کرنا پڑی۔ دس بجے تک میری عجیب حالت رہی۔ ایک بار تسلیم احمد صاحب آئے اور کھانادے گئے۔ رضوان اور ہم دونوں نے کھانا کھایا۔ میں نے ان سے کہا کہ جلد کسی دوسرے ڈبے میں لے چلو ورنہ کل مجھے بخار آجائے گا۔ خیر دس بجے وہ پھربھاگتے ہوئے آئے۔ مجھے اوررضوان کو مع بستر کے وہاں سے لے گئے۔ جان میں جان آئی۔ مردانے میں مولانا نے بوروں پربسترے الٹے سیدھے لگا دیئے اور میں نماز عشا پڑھ کر لیٹ گئی نماز پڑھنے تک کی وہاں جگہ نہ تھی۔

کل جمعہ کو صبح کے آٹھ بجےہم سب کراچی سٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں سے ایک موٹر اور ایک گاڑی ۱۲/۱۲ میں کرکے حاجی کیمپ میں آئے۔ کل صبح کو کھانا بازار سے آیا سب نے کھایا۔ میں نے روٹی گھی کے ساتھ کھائی۔ قیمہ تیج پات والا نہ کھاسکی۔ اب تک گھر کا کھانا چلتا رہا۔ شام کو  خوشرنگ نے آلو پکائے۔ مولانا بازار سے آٹا، چاول، دال، گھی تھوڑا تھوڑا لے آئے۔ آج صبح کو روٹیاں اور دال مونگ پکائی گئی۔ سب نے کھائی۔ اس وقت شام ہے۔ رضوان نے طاہری پکوائی ہے۔ کھا رہا ہے۔ کل لالٹین ۱۵ کی آئی ،وہ جلائی گئی۔

از جہاز دا سنا

ساحل ایران و عرب

دوشنبہ ۳فروری ۳۶ء

عزیزہ سلمہا! کل سامان سب کے درست ہوئے۔ ۸بجے کےبعد جہاں بھپارہ ہوتا ہے ہم سب گئے۔ وہاں بھی بغیرکسی جھگڑے کے فوراً چھاپے لگ گئے اور ڈاکٹر کے دستخط ہو گئے۔ہم لوگ بالکل آخر میں پہنچے تھے مگر حاجی عبدالغنی صاحب مل گئے۔ سب لوگوں کا کام ختم کرکے جاہی رہے تھے ان کی وجہ سے اور بھی آسانی ہوگئی۔ ہم سب فوراً ہی آئے اور جہاز پر سوار ہوگئے۔

ٹھیک دس بجے جہاز نے آخری سیٹی دی اور چل دیا۔ مسافر کم تھے اورحاجیوں میں تو ہم ہی ساڑھے چھ آدمی تھے۔ ہاں دو شخص اور دہلی کے جو آج خسرو جہازسےجدہ ہو کرحج کو جانے والے تھے، وہ بھی مولانا کے ہمراہ ہو گئے۔ حاجی عبدالغنی صاحب نے ان لوگوں کے ٹکٹ جدّے کے بدلواکر بصرے کے دلوادیئے ورنہ (یہ کام) مشکل تھا۔ ایک اور بڈھے میاں جن کے لڑکے نجف میں ڈاکٹری کرتے ہیں، وہ بھی ساتھ ہیں۔ غرض کہ کل ساڑھے ۹ حاجی ہوگئے۔ باقی تھوڑے سے مختلف مسافر اورہیں جو ابادان وغیرہ مقامات کے جانے والے ہیں، حاجی نہیں ہیں۔

جہازخالی ہے اور اسلامی ورضوانی جہازوں سے چھوٹا ہے۔ نمونہ وہی ہے مگراس کے اوپر والا ڈک ایسا ہے جیسا حاجیوں والے جہازوں کے نیچے کا ڈک ہوتاہے۔ ہر طرف سے بند گول گول شیشے لگے ہیں۔ بیچ بیچ میں جنگلے لگے ہیں۔ البتہ پاخانے وغیرہ نیچے بھی ہیں۔ نل بھی جگہ جگہ لگے ہیں ۔ گرم پانی میٹھا (پانی) ہروقت تیاررہتا ہے۔ غسل خانے البتہ تھرڈ کلاس والوں کے نہانے کےلئے دیسی ہی ہیں۔ ٹب وغیرہ کچھ نہیں۔ لوگ اٹھا لے جاتے ہیں۔ نالیاں بڑی چوڑی چوڑی ہر طرف ہیں۔ انہی میں لوگ اپنا اپنا کھانا انگیٹھیوں میں پکاتے ہیں۔ ہم لوگوں نے بھی کل صبح کو دال ارہر، چاول اور روٹی پکائی۔ شام کو دال پچ میل چاول اور آج صبح کودال مسور چاول روٹی اور آلو کا بھرتا پکایاگیا۔ میری انگیٹھی، خوشرنگ کی انگیٹھی اور پتیلیاں وغیرہ استعمال میں ہیں۔ کراچی سے گھی، آٹا، دالیں، مسالا، چائے، شکر وغیرہ آٹھ روپے کا منگوایاگیا مشترکہ گھی خراب ہے۔

جہازکی رفتار تیزہے اور چکروغیرہ مطلق نہیں۔ اوپر جائو تو سمندر کی سیر کرومیں صبح کو ذرا دیرکے لئے گئی تھی بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔

خیر امید ہے تم سب بخیریت ہوگی۔ پرسوں جہاز بوشہر پہنچے گا اور کچھ دیر ٹھہرےگا۔ جمعرات کو انشاء اللہ بغداد شریف پہنچ جائیں گے۔ مجھے حرارت رہتی ہے اورکمرمیں درد بھی۔

از جہازدا سنا

ساحل ایران و عرب

چہار شنبہ ۵ فروری ۳۶ء

عزیزہ سلمہا! پرسوں میں نے کچھ حال لکھا ہے۔ بعد اس کے عصر کے وقت سے جہازمیں یکایک ہوا شروع ہوئی۔ ہوا نہایت تیزتھی۔ بادل بھی ہوگیا۔ رات کو خوب بارش ہوئی اور اس وقت سے کل دن بھر رات بھر یہی حالت رہی۔ نماز وغیرہ پڑھنے کےعلاوہ میں زیادہ تر لیٹی رہی۔ سرمیں درد بھی تھا اور بھی سب کوکچھ کچھ دوران سر کی شکایت رہی مگر آج صبح سے موقوف ہے اگرچہ ہوا بدستور تیزہے۔

۱۱بجے بو شہر بندرگاہ ایران آیا۔ جہاز بیچ سمندر میں لنگرانداز ہوا اور بڑی بڑی دس پانچ کشتیوں میں مال آیا ۔ انارکےبنڈل بہت آئے (سوا آنے) کاایک انار شیریں ہم نے بھی لیا ۔ سنترے ایک آنے کا تین۔ مرغیاں انڈے وغیرہ بھی آئے۔ یہاں سے بکس انہی کشتیوں میں اتارے گئے۔ دولکڑی کے بڑے بڑے بکس جن میں پوری پوری موٹریں بند تھیں۔ ابھی جہاز کے نیچے کےحصے سےزنجیروں میں باندھ کر نکالے گئےاور جس طرح تم نے بھی دیکھا ہوگا کہ سامان لاد لاد کے مشین کے ذریعے اٹھا کر نیچے کشتیوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک بکس ایک ایک کشتی پرلادا گیا۔

یہاں سے بو شہر دور سے پہاڑیوں کی طرح نظر آ رہا تھا۔ دوربین کھو گئی ورنہ شہر کچھ نظرآتا اور کوئی خاص بات یہاں نہیں ہے۔ جس طرح گڑبڑ عدن یا کامران وغیرہ میں ہوتی ہے اور خرید و فروخت کا سلسلہ خوب جاری رہتا ہے یہاں کوئی ایسی کشتی آئی ہی نہیں۔

کل شام کو انشاء اللہ بصرہ پہنچیں گے اورکل ہی انشاء اللہ تم کوخط بھی لکھیں گے۔ ایک دہلی سے ، دوکراچی سے، تین ، اب یہ چوتھا خط کل ہوگا۔ اللہ سے امید ہے تم سب بعا فیت ہوگی۔

تسلیم احمد، منوررضا، امیر اللہ، خوشرنگ سب مل جل کر کھانا پکاتے ہیں۔ چائے بھی سادی ار ڈبے کے دود ھ کی بنتی ہے مگر میں نہیں پیتی، نہ سالن دال وغیرہ کھاسکتی ہوں۔رضوان بخیریت ہے ڈائری کسی طرح نہیں لکھتا نماز فجر البتہ پڑھ لیتا ہے۔

از بغداد شریف

حجرہ خانقاہ حضرت غوث پاک

یوم جمعہ ۱۲ ذیقعد ۱۳۵۴ ھ (۷فروری ۳۶ھ)

عزیمہ سلمہا! اللہ سے امید ہے تم سب بخیریت ہوگے۔ پرسوںکچھ حال لکھا تھا۔ بلو شہر سے جہازصرف سامان اتار کے ۴بجے روانہ ہوا اور دس گھنٹے میں ابادان رات کوپہنچا۔ کنارے لنگر انداز ہوا۔ یہ مقام بہت ہی بارونق اور آباد ہے۔ خوب مکانوں میں بجلی کی روشنی اور چہل پہل ہے۔ یہاںتیل مٹی کا بکثرت ہے۔ بے شمار کارخانے ہیں۔ کارخانے سامنے سے سب نظر آتے ہیں۔ یہاں جہازصرف تیل ہی لینے کو ٹھہرتے ہیں۔ بہرحال دو بجے سے بڑے بڑے پمپ جیسے تم نے دیکھا ہوگا کہ سمندر سے پانی لینے کے ہوتے ہیں، بڑے بڑے چبوترے میں کئی کئی (پمپ) لگا دیئے گئے اور دو بجے سے صبح تک خوب تیل لیا گیا جگہ جگہ چبوترے بنے ہیں اور علیحدہ علیحدہ جہاز تیل لیتے ہیں۔ یہاں تیل آتا ہے اور صاف کیاجاتا ہے۔ جہاز ۸بجے روانہ ہو گی۔ ابادان کے کئی مسافر اترنے والے تھے مگر وہاں سواریاں نہیں اتارتے بلکہ ایک گھنٹے کےبعد محمرہ شہر آیا، وہاں لانچ اور کشتیوںمیں لوگ گئے اور پھروہاں سے ابادان موٹروں میں اپنے اپنے گھرگئے ہوں گے حالانکہ ابادان میں سامنے ہی لوگوں کے گھر بنے تھے مگر وہاں کسی کو نہ اتارا۔ دریائے دجلہ شروع ہوگیا بہت گہرا اور دور تک چلا گیا ہے۔بغداد بلکہ اس کے بھی آگےتھے۔ پانی اس کا زردی مائل گدلا گنگا کا سا ہے۔ پاٹ بھی بہت بڑا ہے۔ اتنا کہ جہاز چلتے ہیں۔کھجوروں کے باغات کا بو شہر کےبعد سے جوسلسلہ شروع ہوا تھا تو یہاںتک نوبت پہنچی کہ جس طرح سمندر میں جہاں تک نظر جاتی ہے پانی ہی پانی ہوتاہے۔ اسی طرح ہر دو جانب سہم و شاداب کھجوروں کے باغ ہی باغ نظر آتے ہیں۔

محمرہ میں بھی سامان اتارتے اتارتے دو بج گئے۔ خیر بہت سے لوگ وہاں بھی اتر گئے۔ ہم ہی لوگ اور چند آدمی رہ گئے جو بصرہ میں اترنے والے تھے۔ ایک گھنٹہ میں بصرہ آگیا۔ محمرہ سے بصرہ تک خوب خوب بنگلے اور مکانات دجلہ کے کنارے باغات سے گھرے ہوئے بہت اچھے معلوم ہوتے تھے۔ جہازکنارے لنگر انداز ہوا۔ ہم لوگوں نے سامان سب ٹھیک کرلیا تھا۔ ڈاکٹر پہلے آیا سب کے ٹیکے اورپاسپورٹ دیکھے۔ مولانا کے چونکہ چیچک کا ٹیکہ نہ لگایاگیا تھا ان کو خوف تھاکہ ڈاکٹر (نہ) اعتراض کرے اور قرنطینہ کرے یا کیا کرے۔ میرا رضوان اور مولانا کا پاسپورٹ ایک ہی میں تھا البتہ اس کے ساتھ چیچک اور ہیضے کی ڈاکٹری سرٹیفکیٹ علیحدہ علیحدہ تھے۔ مولانا نے میرا اور رضوان کا سرٹیفکیٹ جو چیچک اورہیضے دونوں کا تھا پہلے رکھا اس کے بعد اپنا جو صرف ہیضے کا تھا۔پھر خوشرنگ کا۔ ڈاکٹر نے میرا اور رضوان کا سرٹیفکیٹ جلد جلد دیکھ کر باقی دو کو دیکھے بغیر ہم چاروںکو پاس کر دیا۔ اب تسلیم احمد رہے۔ ان کے چیچک کے ٹیکوں میں یہ اعتراض تھا کہ بارہ دن کی میعاد پوری ہونی چاہئے اگر کم ہوگی تو بارہ دن کے اندازے سے دن پورے کرنے کے لئے قرنطینہ میں روک لیں گے۔

تسلیم احمد کا پاسپورٹ اور سرٹیفکیٹ کراچی کا تھاجس کے صرف چھ دن ہوئے تھے اس لئے وہ چھ دن کے لئےروکے گئے۔ اب وہ بہت پریشان مگر منور رضا صاحب جو ہمارے شیعہ ہم سفر ہیں انہوں نے نواب صاحب خیرپور سے سفارش کی جوہمارے ساتھ ہی کراچی سے فرسٹ کلاس میں تھے۔ باورچی وغیرہ ساتھ ہیں۔ ایک وقت مولانا کی دعوت کی تھی۔ نواب صاحب نے ڈاکٹر سے کہا سنا، خیر ان کوبھی چھوڑ دیا۔ پاسپورٹ ملنے پرچھ بجے کےبعد جہاز پر سے اترے۔

اب ایک بڑی مشکل یہ باقی تھی کہ سب کا سامان پہلے جنگی خانے (کسٹم) جاتا ہے۔ وہاں ایک ایک چیز بسترے، مکس، پوٹلیاں وغیرہ سب دیکھتے ہیں۔ نئے کپڑے پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ تمباکو کی سخت نگرانی ہے۔ سب سے زیادہ مجھ کو اپنی تمباکو کی فکرتھی کہ کس طرح بچے۔ خیر اللہ کا نام لے کے چلے۔ اب دو نئے دہلی والے جو کراچی سے بجائے جدے کی طرف سے جانے کے ہمارے ساتھ ہوگئے تھے ان کا کل سامان خوب خوب نوچا کھسوٹا گیا۔ اب ہم سب کی باری تھی کہ خفیہ پولیس والے آگئے۔ ایک نے توصاف ظاہر کر دیا کہ ہم کو مولانا کی پہلے سےخبر تھی اس کے سبب سے اور جو بڈھے میاں کراچی سے ہمارے ساتھ تھے ان کے لڑکے جو نجف میں ڈاکٹرکہیں وہ سٹیشن جہازپر مل گئے انہوں نے مال وغیرہ سب لکھوا دیا اور ہم سب تلاشی سے بچ گئے۔

۵بجےریل چھوٹنے والی تھی اس کی بھی فکر تھی کہ جلد نجات ہو تو روانہ ہوں خیر بغداد شریف جانے والا میل ۵ بجے کو چھوٹا۔ اس میں ہم سب نے موٹر پر (سے اتروا کر) سامان جلد جلد رکھوایا اور اطمینان سے بیٹھ گئے۔ ڈبہ سب خالی پڑا تھا مگر چھوٹی چھوٹی بنچیں دو دو آدمی کے بیٹھنے والی ہیں۔ میں نے اور رضوان نے انہی پربستر لگائے اور دوسری طرف مولانا نے اوپر بستر لگایا۔ رات بھر خوب سوتے رہے۔ علی الصبح اٹھے فجر کی نمازیں پڑھیں اور بغداد شریف آگیا اترے اس وقت ترشح ہو رہا تھا۔ برا میدان، ہوا تیز آندھی سی اور اس قدرسرد تھی کہ خدا کی پناہ۔ خیر تین گاڑیاں کرائے پر کی گئیں اورہم سب سوارہو کر درگاہ شریف میں آئے۔ وہاں عرب کا ساکمرہ تکیوں گدوں سے ٹھیک موجود تھا ۔ تھوڑی دیر کے لئے وہاں سردی سے بچنے کے لئے بیٹھے۔ اس کے بعد صاحب سجادہ بڈھے ضعیف آدمی ہیں، مسکان سےموٹر پر آئے۔ ان سے مولانا ملے اور احاطہ خانقاہ شریف کے اندر دوسری منزل پر اک حجرہ ٹھہرنے کے لئے لیا۔ عورتیں ان حجروں میں نہیں ٹھہرسکتیں مگرمولانا کے کہنے سے مجھے بھی رہنے دیا۔ اب ہم اسی میں ہیں۔اس وقت یکایک خوب پانی برسا اور اولے پڑے۔ آج جمعہ تھا۔ سب نے نماز پڑھی اس کے بعد دروازہ مزارشریف کا کھلا۔ عورتوںکے ساتھ میں بھی اندر گئی اپنی خوش قسمتی پر رونا آتا تھا۔ تم سب کے لئے دعائیں مانگیں اب کل لکھوں گی۔

از باب الشیخ

بغداد شریف

یوم سہ شنبہ ۱۷ذیقعد ۵۴ھ مطابق ۱۱فروری ۳۶ء

عزیزہ سلمہا۔ کئی دن کےبعد آج وقت ملا۔ روزانہ کہیں نہ کہیں جانا ہوتا تھا۔ ہفتے کو بعد صبح کاظمین شریف گئے وہاں حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کامزاربہت بڑی درگاہ ہے۔ دور سے پھاٹک نہایت مطلار بھلا نظرآتا ہے۔ سنہرے کھمبے، قبے ، چاندی کی قدآدم جالی خوب لانبی چوڑی بنی ہے۔ اس کے اندر کار چوبی پردے پڑے ہیں اور اونچی سی ضریح رکھی ہے۔ حضرت امام رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر دعا تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے میں نے تم سب کی صحت و سلامتی، عافیت، دین و دنیاوغیرہ وغیرہ کی دل سے دعائیں مانگیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔

شیعہ عورتوں کا ہجوم بہت تھا۔ جالی کے ہرطرف گھوم رہی تھیں۔ ہم لوگوں کوبھی حنفی مزدّر نے سلام خوب دیر تک پڑھایا۔ وہاں سے دوپہر کو واپس آئے۔ مولانا اور تسلیم احمد قونصلیٹ چلے گئے پاسپورٹ وغیرہ کے انتظام کے لئے۔

واپس آتے ہوئے ہم لوگوں نے کپڑوں کا بازار دیکھا۔ یہاں کے بازار اس قدر کشادہ، پررونق اور بکثرت ہیں کہ چلتے چلتے دیکھتے دیکھتے انسان تھک جائے مگر سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ ریشمی کپڑوں سے بڑی بڑی دکانیں، مکے کی وضع کی پٹی پڑی ہیں۔ اسی طرح اونی اور سوتی چھینتیں بھی یہاں بکثرت ہیں۔ جاپانی مال بھی بہت ہے۔ کھانوں کی دکانیں بھی ہیں۔ کھلونوں کی بھی دکانیں ہیں۔ جاپانی ربڑ وغیرہ کے جوتوں کی بھی دکانیں بے حساب ہیں۔ جوتے یہیں کی دکانوں میں بنائے جاتے ہیں۔ مولانا نے احرام کے لئے ایک جوڑا شامی قسم کا ۲۱ (ایک روپیہ بارہ آنے) میں کل خریدا ہے۔ ہاں تو پہلے دن میں نے رضوان کے لئے ایک نیلے رنگ کا ڈبل اونی کپڑے کا نیا چسٹر چار روپے کا خریدا۔ خوب لمبا چوڑا ہے۔ یہاں سردی بہت سخت ہے۔ بارش بھی تھوڑی تھوڑی اکثر ہوتی رہتی ہے۔ ہوا بھی کسی وقت بہت سرد چلنے لگتی ہے۔ یہاں دکانوں میں سلے ہوئے کوٹ مردانے اور زنانے مخمل کے ہوتے ہیں۔ بچوں کے لئے بھی بکثرت ٹنگے رہتے ہیں۔ خوشرنگ بھی ساتھ ہیں۔ ان کو ایک سویٹر کی ضرورت تھی مگر منتخب ایک پرانا مخمل کا زنانہ کوٹ کیا گیا لیکن خوشرنگ نے اسے پسند نہ کیا۔ مجبوراً میں نے لے لیا۔ اچھا ہے پاک کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ پرانی ہے۔ خدا معلوم کیسا ہے۔ میںتھک گئی تھی واپس آئی۔ گوشت کی دکانیں اور میوے کی بھی دکانیں بہت زیادہ ہیں۔ انار پانچ آنے کا سیر۔ سرخ و شیریں بڑے بڑے دانے، شاداب خوب ہیں ۔ مولی، گاجر، میٹھے نیبو،کھٹے نیبو، غرض کہ کل چیزیں (موجود ) ہیں۔ کمپٹ کی دکانیں بڑی بڑی بے انتہا، مختلف قسم کے چاکلیٹ اور بسکٹ سے بھری رہتی ہیں۔ یہاں صبح سے دوپہر تک بالائی بھی بہت موٹی تہہ کی (ملتی ہے) بکثرت لوگ لیتے ہیں۔ اچھی ہوتی ہے۔ میں تو روز صبح کودو پیسے چارپیسے کی منگوا کر کھاتی ہوں۔ (اور) رضوان بھی۔ روٹیاں مکے کی سی (ہوتی ہیں) بخاری بہت بڑی خوب اچھی گرم گرم دوپیسے کی ایک ملتی ہے۔ صبح کو یہاں پھاٹک پر ایک عورت چنے بھی لاتی ہے، ایک پیسے کے بہت سے ملتے ہیں ۔ سفید ا ور بہت بڑے جیسے لوبئے کے دانے بڑے بڑے۔ میں روز کھاتی ہوں۔ کلیجی کباب وغیرہ وغیرہ (ملتے ہیں) ہوٹل بھی جگہ جگہ بہت ہیں۔ ان میں کھانا ہر قسم کا اور سستا ملتاہے۔ دودھ بھی ۲سیر پرسوںمنگوایا تھا۔ خوب گرم اچھا تھا۔ گوشت گائے کا بھی بہت ہے بھینسیں بھی ہیں۔ ملائی وغیرہ اسی (کے دودھ) کی بنتی ہے۔ دنبے کا گوشت اوربکری کا بھی۔ آج کل گراں ہے۔ ۸سیرچربی بھی بازاروںمیں بکثرت (ملتی ہے) پنیر اورکھویا بھی ملتا ہے۔ ترکاریاں بھی سب ملتی ہیں۔

سڑکیں چوڑی صاف چمکدار (کان پورکی) ٹھنڈی سڑک کی سی ہر طرف ہیں مگر ذرا سی بھی بوندیںپڑتی ہیں تو پھسلن سڑک پر ہو جاتی ہے۔ سوکھنے پروہی سڑکیں سخت سیمنٹ کی سی ہوجاتی ہیں۔

بگھیاں جس کو یہاں اربعانہ کہتے ہیں، ان میں چار آدمی بیٹھتے ہیں۔ کرایہ بے حد سستا ہے۔ ٹرام بھی ہیں۔ یک منزلہ بھی دو منزلہ بھی۔ مگرتعجب ہے ان میں بھی یہاں صرف دو عراقی گھوڑے لگے ہوتے ہیں۔ خوب تیز جیسے ہمارے یہاں تانگہ فرفر چلتا ہے۔ مال کے بڑے بڑے چھکڑے بے انتہا وزن کے، ان میں بھی گھوڑے ہوتے ہیں مگرگھوڑے یہاں کے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں۔

دجلہ پرپل بنا ہے اس طرح سے کہ نیچے برابربرتائو کی طرح لوہے کی کشتیاں پانی میں لنگراندازہیں۔انہی پر لمبا چوڑا پل قائم ہے۔ اربعانہ (پل پر) نہیں جاتا۔ موٹریں بے عدد و بے شمار ہیں۔ بازاروںمیں ہر طرف دوڑدھوپ اور آدمیوں کا ہجوم ہر وقت نظرآتا ہے۔ مٹھائی کی دکانیں بھی بہت ہیں۔ یہاں خاص وعام غریب امیر سب کی ایک پوشش ہے یعنی کوٹ، پتلون، ٹائی، بوٹ، عراقی سیاہ ٹوپیاں اور اس پر سے اوور کوٹ بھی۔ عراقی خوب گورے گورے خوبصورت انسان ہیں۔ بچے بھی اسی طرح سفید روئی کے گالے (جیسے ہوتے ہیں) چوڑے چوڑے چہرے تندرست موٹے تازے۔

یہاں پردہ نہیں ہے۔ البتہ پرانی وضع کی کچھ عورتیں عرب کا سا نقاب باہر ڈال لیتی ہیں مگر پنڈلیاں اوپر تک کھلی۔ موزے باریک باریک (پہنتی ہیں۔ پیر میں) لیڈیز شو۔ باقی عورتیں عموماً اور نوجوان لڑکیاں خصوصاً نیم برہنہ۔ فراک گریبان چاک اوپرسے چسٹر، بال بنے ہوئے۔ سب کے چہروں پر زلفیں آٹھ آٹھ انگل کی ادھر ادھر گالوں پرلٹکتی ہوتی ہیں۔ کسی کسی کی چوٹی لانبی لانبی اور کسی کسی کا جوڑا پیچھے بندھا ہو۔ ورنہ اکثرکے بال کٹے رہتے ہیں۔ بے انتہا حسین اور گداز بدن، سرخ سفید، نازک، نقشے درست۔ بے تکلف سکولوں میں بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں۔

یہاں سینمابھی بہت ہیں۔ لوگ شوقین اور آسودہ حال بمبئی کاسا نمونہ ہے۔ بازار دوہرے بمبئی کی طرح پٹے ہیں۔ ہر وقت چہل پہل رہتی ہے مگرمغرب کے وقت سے دکانیں بند ہونے لگتی ہیں اور آٹھ بجے تک سب بازار بند ہوجاتا ہے۔ دروازے دکانوں میں لہردار چادروں کے اس قسم کے ہیں کہ جب چاہو اوپر چڑھالو۔

دوپہر سےگئے ہوئے مولانا شام کو واپس آئے۔ کسی کے ہاں دعوت تھی۔ وہیں کھانا کھا لیا۔ کام کچھ نہ ہوا۔

یہاں قاعدہ ہے کہ ہر حاجی سے سو سو روپیہ کی نقد ضمانت جمع کرالیتے ہیں اور بغداد سے پکا پاسپورٹ حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ کا دس روپے لے کر دےدیتے ہیں، اگرچہ قواعد میں ایساکہیں نہیں لکھا ہے چنانچہ مولانا نے قونصلیٹ میں خوب بحث و مباحثہ کیا کہ جب ہم ہندوستان سے عراق و حجاز کے دو پلگرمس پاس لائے ہیں تو ہم سے یہاں حجاز کا نیا پاسپورٹ کیوںطلب کیاجاتا ہے؟ ہم دس دس روپے ہرگز بیکار خرچ نہ کریں گے۔ علاوہ بریں فلسطین وغیرہ مقامات کے لئے تو ہندوستان میںیہ اطلاع حکومت کی طرف سے مل گئی تھی کہ وہاں جانا ہو تو نقد ضمانت جمع کرانا ہوگی۔ مگرحجاز کے لئے بھی سو سو روپے مانگے جائیں گے، اس کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ ہمارے لئے اس مزید رقم کاجمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ نتیجہ اس دن یہ نکلا کہ برٹش گورنمنٹ کو تاردے کر جواب منگوایا جائے۔

دوسرے دن اتوار تھا اس لئے تعطیل تھی۔ سب کام بند تھا۔ طے پایا کہ صبح سے سامرہ بغرض زیارت جانا چاہئے۔ راستے میں امام اعظم ابوحنیفہؒ اورحضرت یوشع علیہ السلام پیغمبر کے مزار بھی ہیںچنانچہ دو اربعانہ گاڑیاں کی گئیں۔ راستے میں اتر کر حضر ت امام ابو حنیفہؒ کے مزارپر فاتحہ پڑھا۔ دروازہ بند تھا۔ قفل کھولنے والااس وقت موجود نہ تھااس لئے باہر ہی فاتحہ پڑھی۔ اس کے بعد حضرت یوشع   ؑ کے مزار پر حاضرہوئے۔ بڑا سا حجرہ ہے۔ قبر شکستہ ہونے کے سبب جیسی بڑی میز لمبی چوڑی ہوتی ہے؟ اسی طرح کے صندوق میں، چاروں طرف سے بند تھی اور سبز غلاف چڑھا تھا۔ حضر ت بشر حافی صحابی رسولصلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ کے مزارات پربھی فاتحہ پڑھی۔ اس کے بعد کاظمین پہنچ کر وہاں سے بذریعہ موٹر سامرہ جانے کا ارادہ تھا مگر اتفاق سے اس دن دوپہر تک کوئی موٹر لاری نہ ملی مجبوراً بغداد واپس آنا پڑا۔

یہاں کاظمین میں خاندان واجد علی شاہ اودھ کی ایک لکھنوی نواب زمانہ ٔ درازسے رہتےہیں، ان لوگوںکی پیدائش یہیں کی ہے۔ مگر اردو لکھنو کی سی میاں بیوی اور ان کی ہندی خادمائیں خوب بولتی ہیں۔ عراقی عربی زبان بھی یہاں سب بندیوںکو آتی ہے۔ اسی طرح سے بغداد کے باشندے سب کچھ نہ کچھ اردوبول لیتے ہیں اور مطلب تو خوب سمجھ جاتے ہیں۔ انگریزی تعلیم کا بھی انتظام ہے۔ شریف حسین کے پوتے نوجوان غازی اس وقت بادشاہ عراق ہیں۔

ہاں تو ہمارے ہم سفر منور رضا صاحب جب پہلے کربلاآئے تھے تو انہی نواب صاحب کے یہاں ٹھہرے تھے، جن کا ذکر اوپرگزرا۔ نواب صاحب کا مکان سامنے ہی تھا۔ منور رضا صاحب ان سے ملے اور ان کے بھتیجے سے موٹر کے لئے کہا اور اس اثنا میںمجھے اور خوشرنگ کو زنانے میں ٹھہرنے اورپیشاب کرنے کے لئے بھیج دیا۔ یہاں کے مکان بڑے بڑے بنگلے نماہوتے ہیں۔ نواب صاحب کا ذاتی مکان بھی دو مزلہ سہ منزلہ تھا۔ ایک ملاقات کا کمرہ آراستہ تھا اوربھی کئی بڑے بڑے ہال تھے۔ یہاں بمبئی سے آئے ہوئے ہرے پان بھی دو روپے ڈھولی ملتے ہیں۔ مگر کتھا ویسا ہی مکے کا سا مٹی کی طرح بے مزہ (ہوتاہے) بیگم صاحبہ دے ہی رہی تھیں مگر میرے پاس کان پور کے تھے ، میں نے انہیں کھایا۔ خوشرنگ نے کھایا۔ ان سے بیگم صاحبہ لکھنو کے حالات پوچھتی رہیں۔ خود اپنی باتیں اور پوچھنے پر عراق کے حالات سب بیان کرتی ہیں۔ بڑی لڑکی اور بڑا لڑکا، ایک چھوٹی لڑکی لڑکا سب سکول گئے ہوئے ہیں۔ ادھیڑ عمرکی ہیں ،خوب موٹی تازی گوری گوری۔ خیر نواب صاحب کے بھتیجے کو بھی موٹر کی تلاش میںکامیابی نہ ہوئی اور ہم سب بغداد واپس آئے۔

یہاں سہ پہر کو دوصاحب ہندی پنجابی آئے اور مولانا کو مع ساتھیوں کے سینما کی دعوت دی۔ ہم لوگ بعد مغرب سب کے سب گئے ہیں۔ اوپر زنانے میں چلی گئیں مرد سب نیچے رہے۔ آدھے کے بعد تماشاشروع ہوا۔ اس میں موجود شاہ غازی کی تاجپوشی کا جلوس دکھایا گیا۔ شروع سے آخر تک لاتعداد فوج کی قواعد، موٹروں کی دوڑ دھوپ اور پبلک کا ہجوم۔ شاہ غازی گھوڑے پر سوار، سواروں کی فوج کا معائنہ اور سپاہیوں کو خود بھی سلام کرتے رہے۔ پھر موٹر شاہی مکان کو چلے گئے۔ وہاں سے برآمدے میں کھڑے ہوکرشاہی فرمان سنایا، اس کے بعد پھر موٹر میں آئے اور پبلک سے برابر مصافحہ کرتے اورفوجی سلام لیتے رہے۔ غرض کہ یہاں کے بادشاہ اور رعایامیں بے حد مساوات ہے۔ لوگ بے تکلف سلام آداب مصافحہ کرتے ہیں۔ آخر تک بس فوج اور گھوڑ دوڑ کا تماشا دیکھنے میںآیا۔ اس کے سوا کوئی سین تھا نہ تماشا۔ سر چکراگیا۔ البتہ بالکل آخرمیں ایک عراقی اور ایک جرمن پہلوان میںکشتی ہوئی۔ خوب گورے گورے موٹے مضبوط تھے۔عراقی نے جرمن پہلوان کو آخر پچھاڑ دیا۔ بس ختم۔ واپسی میں سارا بازاربند کھانا پینا بھی بند سب بھوکے سو رہے۔ تیل لالٹین میں (ڈالنے کےلئے) بڑی دقت سے ذرہ سا مل سکا۔

سینما میں میرے پاس اتفاق سے دہلی کی ایک ماں اور بیٹی بیٹھی تھیں۔ میاں ان کے سولہ سال سےیہاں ہیں۔ بیوی اوربڑی لڑکی سال بھر سے آئی ہوئی ہیں۔ باپ نے لڑکی کا نکاح ماں کی مرضی کے خلاف ایک تین بچوںکےباپ کے ساتھ کردیا جن کی پہلی بیوی فوت ہوچکی ہیں۔ وہ بھی ہندوستانی تھیں۔ لڑکے چھوٹے چھوٹے ہندوستان ہی میں ہیں۔ کل یہاں خانقاہ شریف میں دونوں ماں بیٹیاں ملنے بھی آئی تھیں۔ اپنی مصیبت بیان کرتی رہیں۔ مدینے اور مکے میں اپنے لئے دعائیں مانگنے کوکہا۔ ایک دینار، جو تیرہ روپے پانچ آنے کا ہوتا ہے، سینما ہی میں دیا تھا کہ دوبکرے، ایک اپنی اور ایک اپنے بڑے لڑکے کی طرف سے جس کا انتقال ہو گیا ہے، قربانی کے لئے دیئے جائیں اور باقی رقم عرفات میں خیرات کردی جائے۔

دوشنبہ کی صبح کوپھر انتظام شروع ہوا۔مقام کرخ کو جونزدیک ہی ہے پل عبورکرکے گاڑیوں میں بیٹھ کر گئے۔ وہاں ہمارے صاحبان شجرہ اور دیر بزرگان دین کے مزارات ہیں چنانچہ پہلے حضرت جنید بغدادیرحمتہ اللہ کے مزارپر گئے۔ بڑا قبہ ہے۔ مسجد بھی ہے۔اندر بڑا سا صندوق، جیسے اورسب مزاروں پر ہیں، وہاں بھی تھا۔ صندوق قد آدم اونچے لمبے چوڑے۔ ان پر کار چوبی غلاف چڑھے ہوتے ہیں ، خر ہم نے فاتحہ پڑھی۔ نزدیک ہی دوسرا صندوق حضرت….. کا تھا، وہاں بھی فاتحہ پڑھی  اور دو رکعت مسجد میں نماز نفل پڑھ کر واپس آئے۔ زبیدہ خاتون زوجہ ہارون رشید کا قبہ بھی نظر آیا تھا دور ہی ہے فاتحہ پڑھ لیا تھا۔ پھر گاڑی میں بیٹھ کر ذرا دور خرابہ کرخ میں حضرت معروف کرخیرحمتہ اللہ کے مزار پرپہنچے اور فاتحہ پڑھی۔ یہ سب ہمارے قادری سلسلے کے بزرگان دین ہیں۔ سب جگہ سے فراغت کرکے واپس آئے۔

مولاناراستے سے مع تسلیم احمد قونصلیٹ چلے گئےکہ آج تار کا جواب آیا ہوگا فیصلہ ہوجائے تو کل نجف اشرف کربلائے معلی اور کوفہ کی زیارت کرتے ہوئے مدینہ شریف روانہ ہوجائیں۔ ہم لوگ بازار دیکھنے چلے گئے۔ خوشرنگ کے لئے ایک سوئٹر سوتی لمبا چوڑا ۱۰کالیا موزے ۲ کے۔ رضوان نے دستانے ۳کے لئے منور رضا صاحب نے بھی موزے دستانے لئے۔ میرا ارادہ تھا کہ نفیسہ و انیسہ کے لئے بھی کچھ کپڑا چھینٹ کی قسم سے جو یہاں بہت مشہور ہے لوں مگر دو چار جگہ پوچھنے پر قیمت ٹھیک نہ معلوم ہوئی۔ مجھے پیاس اوررضوان کوبھوک بہت لگی تھی اس لئے جلد واپس آئے۔

شام کوجمعیۃ الاسلامیہ کی طرف سے مولانا کی اورسب کی دعوت تھی۔ ایک اورجگہ چار بجے چائے کی اور ایک دوسری جگہ صرف مولانا اور تسلیم احمد کی دعوت تھی۔ شام کوانجمن میں جلسہ بھی تھا۔ خیر ہم سب عصر کے وقت دعوتوں میں چلے۔ میرا ارادہ نہ تھا مگر مولانا نے کہاکہ جلسہ میں چلو، تو میںبھی ساتھ ہوگئی۔ اب باہر نکلنے پر سب لوگ جلسے میں چلے گئے اور مجھے نہ لے گئے کہ عورتوںکے جانے کا یہاں قاعدہ نہیں ہے۔ آپ زنانے میں تشریف لے چلئے۔ وہیں دعوت تھی۔ پہلے سے معلوم نہ تھاکہ یہ لوگ کون ہیں جہاں جا کےاجنبی کی طرح بیٹھی رہوں گی۔ دعوت کاحال بھی نہ معلوم تھا کہ میری بھی ہے اور یہیں ہے اندر گئی وہاں ان کی بیوی اور دونوں لڑکیاں تھیں۔ ایک انیسہ کےبرابر اور ایک دو مہینے کی انعام سے بڑی موٹی تازی، ایک بڑھیا خادمہ بھی تھیں ۔

یہ لوگ بریلی کے باشندے ہیں۔ میاں بھی ان کے انجمن کےممبر یا شاید سیکرٹری ہیں۔ ان کی بیٹی کوبھی میں نے سینما میں دیکھا تھا۔ بات چیت بھی مختصر ہوئی تھی۔ یہاں عصرسے لے کرعشا تک بیٹھنا پڑا۔ خودبے چاری دعوت کے انتظام میںتھیں۔ ذرا ذرا دیر آ کر بیٹھ جاتی اور چلی جاتی تھی۔ کمرے میںتنہا میں اور چھوٹی لڑکی جس کو یہاں کے دستور کے مطابق جس طرح تم نے مدینے میں مولانا عبدالباقی صاحب کے یہاں بچے کو لپٹا کسا بندھا دیکھا تھا اسی طرح وہ بھی بندھی ہوئی تھی لمبی لمبی علاحدڈہ جھولے میںلکڑی کا پالنا پڑا تھا۔ اس میں گدے ، تکیہ، رضائی کمبل اوڑھے سو رہی تھی۔ پاخانے کےوقت اس کا لنگوٹ کھول کر صاف کرتے اور پھر لپیٹ کر کس کے باندھ دیتے ہیں۔ دودھ سب کے سامنے گریبان سے نکال کے بچے کوپلا دیا اورپھر لٹا دیا۔ بچہ مردہ سالپٹا ہوا پڑا رہتا ہے۔

یہاں یہی دستور ہے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کو نہلا دھلا کر خوب گرم کپڑوں سے جکڑ بند کرکے بالکل الگ جھولے اورکھٹولے میں سلاتے ہیں۔ ماں بچے کواپنے پاس کسی وقت نہیں سلاتی۔ بالکل علیحدہ اکیلا پڑا رہتا ہے۔ یہ بات ہمارے ہندوستان میں غیرممکن ہے کہ بچہ الگ پڑا ہے اور ماں آزادی کے ساتھ دوسرے پلنگ پر رہے۔ صرف دودھ پلا دیا اور پاخانے پیشاب کی خبر لے لی۔ یہاں کے بچوںکی بھی عادت ہوتی ہے۔ میرے سامنے ماں آئیں اور لڑکی کالنگوٹ بدلا، پیشاب کرایا اور ذرا دیر کھلا رہنے دیا اتنے میں وہ خوب رونے لگی۔ ماں کام سے چلی گئی تھی۔ میں بہت چمکارا، پیار کیا مگر وہ ذرادیر بعد پھررونے لگی۔ ماں آئی اور اس کو پھر بڑے سے رومال میں لمبے لمبے ہاتھ پائوں کرکے باندھ کے ڈال دیا۔ چپ ہوگئی۔ ٹک ٹک دیکھتی رہی اورکچھ دیر کے بعد سوگئی۔ ماں باتیں کرتی رہی اچھے اخلاق کے لوگ ہیں۔

پندرہ بیس آدمیوںکی دعوت تھی۔ مغرب کی نماز پڑھی۔ عشا کی نماز کے بعد مولانا جلسے سے آئے تو کھانا کھایا گیا۔ پلائو میں یہاں بجائےگوشت کے تلے ہوئے اچار وغیرہ آخر میں فیرینی جو بہت عمدہ تھی۔ بعد کو سنترےوغیرہ آئے۔

چائے کا بھی سلسلہ رہا اس کے بعد سب واپس آئے۔

کل بھی قونصلیٹ میں پاسپورٹوں کاتصفیہ نہ ہو سکا ورنہ کل منگل کو روانہ ہوجاتے۔ سامان سب کا بالکل بندھا تیار رکھا تھا کہ پاسپورٹوںکا قصہ ختم ہونے پربعد ظہر چل دیں گے۔ اب آج بھی صبح سے یہی تماشا ہو رہا ہے۔ رات کو سامان کھول دیا گیا تھا۔ اس وقت سب کے بستر وغیرہ باندھے گئے اور مولانا، تسلیم احمد اور منور رضا ناشتہ کرکے قونصلیٹ روانہ ہوگئے۔ دیکھئے کیاخبر لاتے ہیں۔

اس وقت آلو کا بھرتا اور آلو نمک مرچ کے (بنائےگئے ہیں) رضوان ماشا اللہ ہروقت کھاتا رہتاہے۔ ایک روپیہ اس کو ناصر نے دیا تھا، خرچ کر رہا ہے۔ مولانا بھی برابر بالائی منگواتے رہتے ہیں۔

یہاں سردی بہت ہے۔بدلی رہتی ہے۔ دھوپ بھی نکل آتی۔سب سے پہلے دن بازارسے ہم نے رضوان کے جسٹر کے ساتھ ایک عراقی ٹوپی بھی لی۔ ایک احسان ایک قائم ایک ناصر ایک سمیع کے لئے بھی یہاں کی یادگارکے طور پر خرید لی۔ نو نو آنے ملی ہیں۔ انیسہ و نفیسہ کے لئے انشا ء اللہ واپسی میں یا مدینے سے کچھ لیں گے۔

ہروقت یہاں سامنے حضرت غوث پاک کا گنبد نیلے رنگ کانظر آتا ہے۔ اس پر پچی کاری، پتھروںکا رنگ برنگی، پھول پتیاںبنی ہیں۔ مسجد سے ملا ہوا بہت بڑا ہال ہے اس کے اندر لکڑی کے منقش دروازے لگےہیں جس میں قفل اندر اورباہر پیتل کے پڑے رہتے ہیں۔ نماز فجر کے بعد نقیب الاشرف جوبہت ضعیف ہیں ان کے بجائےکی اورصاحب جو انہی کے کوئی ہیں وہ آتے ہیں اور باہر اندر کے قفل کچھ پڑھتے ہوئے کھولتے ہیں۔ بند رہنے کی حالت میں اندر والے دروازےپرسبز رنگ کا کارچوبی پردہ پڑا رہتا ہے، وہ بھی کھلتاہے اور زائرین اندر جاتے ہیں۔ دروازے کھلنے پر سامنے سڑک تک سے مزارشریف نظرآتا ہے۔ اندر چاروں طرف چاندی کی موٹی موٹی جالی ہے قد آدم بلند اوپرسےبھی جالی کی ڈالو چھت اونچی سی ہے۔ اسی کےاندر بہت بڑا صندوق یاضریح ہے جس پرہرطرف نہایت قیمتی موٹے موٹے کارچوبی غلاف چڑھے ہیں۔ غلاف پر کتبے کلمہ کے بسم اللہ کے اورآیتوں کے لکھے ہوئے ہیں۔ پھول پتیاں سرخ سبز مخمل پر نہایت دلکش بنی ہیں ہم سب جالی کوچومتے عائیں مانگتے اورفاتحہ پڑھتے ہیں۔ طواف بھی کرلیتے ہیں۔ فجر کےعلاوہ ظہرعصر کے وقت بھی روضہ مبارک کادروازہ اسی طرح کھلتاہے۔

عرب کی طرح یہاں بھی وقت کا شمار غروب آفتاب ہی سے ہوتا ہے۔

احاطہ خانقاہ کے بیچ میں بہت بڑا مینار ہے اس پردو گھڑیاں اور بڑے بڑے گھنٹے اوپر ہی لٹک رہے ہیں جوہر (نماز کے)وقت خوب بجتے (رہتے) ہیں مثلاً عشا کی نماز دوبجے، فجر کی نماز دس بجے اور اس کے بعد پھر ظہر کی نماز آٹھ بجےاور عصر کی دس بجے ہوتی ہے مغرب کے وقت بارہ بجتےہیں۔

یہاں کچھ لوگ عرب کی طرح عبا پہنتے اور پگڑی باندھتے ہیں خصوصاً باب الشیخ کے لوگ۔ یہ بغداد کا ایک محلہ ہے جیسے لکھنو میں فرنگی محل اسی محلے میں حضرت غوث پاک کامزار ہے۔

دوسرے محلوں میں شیعہ بھی ہیں اورشاید سنیوں سے زیادہ۔ نجف، کربلا، کاظمین میں تو شیعہ ہی شیعہ ہیں۔ یہاں عیسائی اور یہودی بھی ہیں۔ مسلمان اور غیرمسلم عورتوں میں لباس کا فرق صرف اس قدر ہے کہ کہ مسلمان لڑکیاں برہنہ سر، ٹیڑھی مانگ نکالے فراک، گون، موزے پہنچے پنڈلیاں کھلی نظرآتی ہیں۔ یہودی و نصرانی عورتیں بھی بالکل اسی طرح رہتی ہیں مگروہ اپنے سروں پرچٹائی یا مخمل کی رکابی نما چپٹی سی ٹوپی آدھے سرمیں پہنے رہتی ہیں۔ بس ورنہ صورت شکل اورکسی بات میں ذرا بھی فرق نہیں ہے۔ فقط۔

از مدینہ طیبہ، مکان عبدالباقی صاحب

یوم سہ شنبہ۳ذوالحج مطابق ۲۵فروری ۳۶ء

عزیز سلمہا! آج دوسرے ہفتےخ لکھنے کی نوبت آئی۔ فرصت ہی نہیںملی۔ کربلا(اور) نجف اشرف میں مدینے آنے کی کشمکش رہی۔ کوشش کرتےکرتے آخرمولانا کو سوسوروپے نہیں جمع کرانے پڑے۔ پاسپورٹ بھی نیا نہیں بنوانا پڑااور دس دس روپے پاسپورٹ کے بھی میرے،رضوان، منور رضااور امیر اللہ کے نہیں ینا پڑے، البتہ تسلیم احمد کو سوروپے ضمانت کے بھی جمع کرنا پڑے اور پاسپورٹ بھی نیا لیناپڑا، اس لئے کہ ان کے پاس ہم لوگوںکی طرح کا حجازی پلگرمس پاس (پورٹ) نہیں تھا بلکہ پکا پاسپورٹ تھاجوانہوں نے کئی سال قبل سائیکل پرحج کرنے کےوقت لیا تھا۔

خیر ہم لوگ ۱۳فروری کودوپہرکے وقت بغداد سے روانہ نجف ہوئے۔ کربلا راستے ہی میں ہے۔ مغرب کےقبل اسی دن وہاں اترے اور رات بھر قیام کیا۔ کربلا میں ایک بھی سنی نہیں ہے تمام شیعہ ہی شیعہ ہیں۔لکھنو کے امام باڑے کا سانقشہ ہے۔ مطلاً و مجلی شیشہ آلات سے بہت بڑی عمارت جگمگا رہی تھی۔ بیچ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کامزار شریف ہے۔ چاندی جالیں، اندر ضریح صندوق نما۔ اس کے بغل میں علیحدہ علیحدہ حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ کا مزار اور حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کی چھوٹی سی قبر ہے۔ سلام مزدّر نے پڑھا، وہاں سے نکلے۔ علیحدہ کچھ فاصلے پرحضرت عباس علمبردار رضی اللہ عنہ کامزار نہایت روشن اسی طرح سے جگمگارہا تھا۔ وہاں بھی فاتحہ پڑھا۔ حضرت امامرضی اللہ عنہہی کے روضے کے اندر ایک جگہ کونے میںقتل گاہ بھی ہے۔ قبر کی طرح نیچے گڑھا اوپرسےجالی لگی زمین دوز لکڑی کا تختہ بند تھا کھول کر دکھایا۔ طبیعت بے قابو ہوگئی فاتحہ ہر جگہ پڑھا۔

واپس بازارہوتے ہوئے آئے۔بازار اچھا ہے۔ بغداد کے نمونے کااوپر سےپٹاہوا۔ دکانیں کپڑے کی، بساط خانےاور سب چیزوں کی ہیں۔ چنانچہ وہاں سے تین جوڑ موتی کی چوڑیاں ۴ (ایک روپیہ چار آنے) میں خریدیں۔ نعیمہ، نفیسہ اورانیسہ کےلئے۔ سجدہ گاہ بھی ایک درجن شیعہ حضرات کے دینے کےلئے کچھ استعمال شدہ سجدہ گاہ کربلاسے حاصل کرلئے خاک شفا کی چند تسبیحیں بھی ۲ (ڈھائی آنے) میں خریدیں۔ راستے میںایک جگہ دودھ گرم گرم تھا ہم سب لوگوں نے گرم گرم نانیں اور کباب سیخ کے لئے کر کھائے۔ مزےکےتھے اور دودھ دو دو پیسے کا بہت سا عمدہ میٹھالے کر پیا۔چائے بھی پی اورجائے قیام پر آ کر سوگئے۔ مغرب کی نماز کربلا میں ایک جگہ چٹائی پرپڑھی۔شیعہ حضرات تعجب سےہم سب کو دیکھتے رہے۔ حرم کربلاکے اندر حضرت قاسم کا بھی مزار ہے دیگرشہدا کےبھی مزار ہیں گنج شہیداں وہاں سے ذرا دور ہے۔ راستے میں کربلا پہنچنے سے ذرا پہلے پسران حضرت مسلم بن عقیلرضی اللہ عنہ کے مزارہیں۔ ان پر بھی فاتحہ پڑھا کچھ دور پر حضرت عونرضی اللہ عنہ و حضر ت محمد صاحبزادگان حضرت جعفر طیاررضی اللہ عنہ کے مزاروں پر بھی فاتحہ پڑھا عجب قسم کی طبیعت میں افسردگی پیدا ہوئی۔ حرم میں ہروقت شیعوںکا بڑا ہجوم رہتا ہے اور عورتوں کے رونے دھونے کی چیخ و پکار بھی رہتی ہے۔

بہرحال صبح کو اسی موٹر میں نجف اشرف روانہ ہوئے۔ ڈارئیور کی خاص (اپنی) موٹر تھی۔ اس کی بیوی اورتین چاربچے بھی نجف تک ساتھ آ رہے تھے اس لئے وہموٹربہت اچھی طرح لایا۔ کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔ ریگستانی راستہ ہے پختہ سڑک نہیں تھی مگر راہ ہموارتھی۔ چارگھنٹے میں نجف پہنچ گئے۔ کئی میل دور سے سونے کا قبہ اورلمبے لمبے ستون سونے کے نظر آنے لگے۔ ذرا دیر میں پہنچ گئے۔

ڈرائیور نے ایک مکان میںاتارا۔ یہاں بھی ایک سنی نہیں ہے کل شیعہ ہیں۔ مکانات رہنے کےلئے اور مسافروں کے ٹھہرنے کے لئے سب شیعہ حضرات کےتھے۔ ایک صاحب عبداللطیف نامی سنی مشہور تھے انہی کے مکان میں ہم کو اتارا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی سنی بنے ہوئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ ہم کواس بارے میں کچھ زیادہ تحقیق و تفتیش کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اس مکان میں ہم کو بڑا آرام ملا۔ بڑے بڑے علیحدہ علیحدہ کمرے، پاخانے، پانی، روشنی کا انتظام اچھا۔ لیمپ لالٹین حسب موجود۔ گدے۔ تکیے عرب کی طرح لگے ہوئے جو فرسٹ کلاس کے لئے ہوتے ہیں۔ مکے کی طرح یہ لوگ بھی ایک وقت دعوت کرتے ہیں چنانچہ رات کو سالن روٹی وغیرہ لائے۔

جمعہ کو نجف رہے مگریہاں ایک مسجد بھی ایسی نہیں جس میں کوئی سنی مسلمان نماز جمعہ پڑھ سکے۔ ایک مسجد ہے بھی تواس میںقفل پڑا ہے بد رہتی ہے۔حرم میں کسی وقت بھی شیعوںکے علاوہ کوئی اور نہیں پڑھ سکتا کہ جگہ ہی نہیں ملتی۔ ہم سب اپنی جائے قیام ہی پر نمازیں پڑھتے تھے۔ نجف میں جمعہ کی نماز کے لئے کسی مسجد کا نہ ہونا بڑے افسوس کی بات ہے۔ منور رضا صاحب تو ہروقت وہاں اپنی نمازیں پڑھ آتے تھے۔ ہم لوگ صبح کو نماز پڑھنے کے بعد حاضرحرم ہوتے اورفاتحہ پڑھ کرچلے آتے تھے۔

یہاں کا خزانہ بھی بہت بڑامشہور ہے۔ ہیرے جواہرات کے انبار کئی دن تک لوٹے گئے مگر ذخیرہ کم نہ ہوا اور پورے خزانے کا اندازہ نہ ہوسکا۔ آخر کار اسی طرح سے بند کرادیاگیا۔

کربلا کی طرح یہاں بھی ہروقت نالہ و شیون کا ہنگامہ برپا رہتا ہے۔ شیعہ حضرات کا ہجوم بکثرت نمازوں اور دعائوں میں مصروف، عورتیں سب کالے برقعوں میں بے تکلف طواف کرتی اور روتی چلاتی رہتی ہیں۔ کربلا کی طرح یہاں کی جالیوں میں بھی تمام تاگے، چھڑے، چلے بندھے نظرآتے ہیں۔ بجلی کی روشنی بکثرت، جھاڑ فانوس بے حساب ہیں۔ کربلا سے بھی زیادہ ۔ نادر شاہ نے تمام عمارت سونے چاندی کی بنوائی ہے۔ دروازے پر ایک موٹی سی بڑی لمبی زنجیر بھی لٹک رہی ہے اس کوبھی پکڑ کے لوگ بوسہ دیتے ہیں اور جالی سے لپٹ کرمرد عورتیں سب روتےرہتے ہیں۔

یہاںسے کل کرباہر ایک بہت بڑا قبرستان ہے بہت پرانا جس میں تمام شہدا ، صحابہ، سادات اور علماکی قبریں ہیں پرانی اسے ’’وادی السلام‘‘ کہتے ہیں۔ مولانا گئے میں بھی ساتھ گئی فاصلے پرتھاتھک گئی۔وہاں حضرت ہود علیہ السلام اورحضرت صالح  علہ السلام پیغمبروں کےمزار ہیں ان پر فاتحہ پڑھ کے واپس آگئے۔

کھانے پینے اوردیگر ضروریات سے فرصت کرکے اب یہاں سے مدینے جانے کے لئے موٹروں اور لاریوںکےٹکٹوںکااورجھگڑا نکلا۔ رضوان کےٹکٹ کے لئے بغداد میں پوچھاگیا تو کہاکہ یہاںآدھا ٹکٹ نہیں ملتا نجف میں ملےگا اس لئے کہ موٹرکمپنی کا صدر دفتر نجف ہی میں ہے لیکن اب یہاں اس کا پورا ٹکٹ مانگتے ہیں۔ رضوان کےسوا باقی سب لوگوں نے نجف سے مدینے تک کا ٹکٹ آمد و رفت دس دس دینار فی ٹکٹ کے حساب سے بغداد ہی کے دفترسے خرید لیا تھا یہاں آ کر ایک بڑی دقت پیش آئی، وہ یہ کہ ہمارے ٹکٹوںمیں بغداد کے دفتر موٹر کمپنی نے پانچواں قافلہ درج کردیا تھا۔ اس لئے خیال تھا کہ ۱۵فروی بروز شنبہ مدینے روانہ ہوجائیں گےمگرنجف کے دفتروالوں نےایک حیلہ یہ پیدا کیا کہ موٹروں کا قافلہ علیحدہ اور لاریوں کاعلیحدہ نمبردار روانہ ہوگا اور سنیچرکے دن صرف چار نشستوں والی موٹروں یا آٹھ نشستوں والی ٹیکسیوںکاقافلہ جائے گا اور وہ قافلہ چہارم قرار پائے گا۔ لاریوںکاقافلہ پنجم چھ دن کے بعد روانہ ہوگا اور وہ ایسے تنگ وقت میںمدینے پہنچے گاکہ حج کے لئے وہاں سے فوراً مکے جانا ہوگا۔ اگرجلد جانا ہے تو موٹر کے فی کس ۱۸دینار یاٹیکسی کے فی کس ۱۴دینار کے حساب سے نئے ٹکٹ لو۔ یا لاریوں کےٹکٹ آٹھ یاچاردینار اور دےکربدلوائو ورنہ پڑے رہو۔ چنانچہ دہلی والوں نےجنہیں جانے کی عجلت تھی چار چار دینار زیادہ دے کر اپنے ٹکٹ بدلوا بھی لئے۔ اب مولانا پریشان کہ اتنا روپیہ کہاں سےآئے کہ رضوان کا پورا ٹکٹ ۱۴دینار (فی دینار تیرہ روپے پانچ آنے) میں خریداجائے اور تسلیم احمد بھی گویامولانا کے ہی ساتھ ہیں۔ ان کا ، مولانا کا اور میرا، یہ تین ٹکٹ لاری کے فی ٹکٹ چار دینار کے حساب سےزیادہ دے کرٹیکسی کے بنوائے جائیں خیر خدا خدا کرکےخداکےفضل و کرم سے رضون کا ٹکٹ آدھا ہوا اوربجائے سنیچر کے اتوارکوجانا طے ہوا، قافلہ موٹروں اور لاریوںدونوںکا قرار پایا۔ موٹریںدس پانچ آگے رہیں گی باقی لاریاں ہوں گی اطمینان ہوا۔

تب اس کے بعد رائے ہوئی کہ کوفے جانا بھی ضروری ہے۔ نجف سے کوٹے ٹرام میں چلے۔ آدھے گھنٹے میں پہنچ گئے۔ چھ سات میل ہے۔ کوفے کی آبادی ایک قصبے کی سی ہے۔ معمولی مکانات، گلیاں بازار بھی ویسا ہی پٹاہوا۔ ضرورت کی سب چیزیں موجود ہیں یہاں کے بنے ہوئے جوتوںکی دکانیں بغداد، نجف، کربلا ہر جگہ بکثرت ہیں۔بہر حال اترے۔ مزدر صاحب جن کے مکان میں ٹھہرے تھے نجف سے ساتھ آئے تھے۔ جامع مسجد کوفہ کے اندر لے گئے بڑاوسیع احاطہ ہے۔ اس کے اندر جگہ جگہ آٹھ دس بڑے بڑے پتھرکے حراب دارچبوترے بنے ہوئے ہیں سب کے نام بتائے۔سب پرفاتحہ پڑھتے چلے۔ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چبوترہ، پھر حضرت نوح علیہ السلام کی وہ طوفانی جگہ سے سیلاب شروع ہوا اور دنیا غرق ہوگئی۔ بڑا سا گول گول حلقہ بنا ہے نیچے گہرائی ہے۔ اس کے بعد امام زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت جبرئیل علیہ السلام، حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوحعلیہ السلام اور کئی پیغمبروںکے مصلے تھے جن کے نام اس وقت یاد نہیںآتے۔ اس کے بعد مسجد کے ادر بھی ایک چبوترہ ہے پٹا ہوا اور ایک در ہے پتلا سا جس میں لکڑی کا دروازہ لگاہے وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت گاہ ہے۔ اسی مقام پر ابن ملجم شقی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوبحالت نماز زہر آلود خنجر سےزخمی کیا تھا۔ ہم سب نے بھی وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور فاتحہ پڑھ کر چلے۔دوسرے دروازے سے باہر نکل کر کچھ دور پرحضرت مسلم رضی اللہ عنہ کا روضہ ہے۔ ذرا اور آگے چھوٹی جالی کے اندر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی صاحبزادی یا کسی اور کاایک مزار تھا۔ پھر اور آگے چل کر سامنے حضرت ہانی رضی اللہ عنہ  کا مزار نکلا۔ اس پربھی فاتحہ پڑھ کر اپنے جائے قیام پر شام تک واپس آگئے اور اتارکی صبح کو چلنے کی تیاری ہونے لگی۔ بازار سے آلو بہت سے لائے گئے دوروپے کی روٹیاںبھی آئیں۔ پتلی پتلی دو دو پیسے نان ملتی ہے۔ بالائی دوروپے کےقریب آئی۔ بہرحال رات بھرسامان سفر ہوتارہا۔ صبح کو لاری جوخوب عمدہ تھی، نئی ، مضبوط ۲۴ سیٹوں ۱۲ آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے ملے ہوئی مگرسوئے اتفاق کہ بیچ کی سیٹ جومیں چاہتی تھی وہ مولانا وغیرہ کی غفلت سے نہ ملی۔ پہلے سے عراقی، چار عورتیں دومرد آگے بیٹھ گئے۔ میں حرم میں فاتحہ پڑھنے چلی گئی تھی۔ وہاں سے تسلیم احمد ساتھ تھے وہ بازارسے روٹیاں لینے لگی اس میں دیر ہوگئی۔ ورنہ میں جلد جا کے قبضہ کرلیتی۔خیر پیچھے کی سیٹوں میں ہم ساڑھے چھ آدمی بیٹھے سب سامان اوپر بندھوا دیا اور فضول سامان بغداد ہی میں چھوڑ آئے تھے مثلاً پلنگ، کوئلے کابورا، ایک بڑا بنڈل، کرسیاں وغیرہ۔ دہلی والوںکوبھی ہماری وجہ سےلاری ہی میں جگہ مل گئی۔انہوں نے جلدی روانہ ہونے کے لئے مجبوراً لاری کے بجائے موٹر کرلی تھی۔ اور آٹھ آٹھ دینار زیادہ جمع کردیئے تھے۔ اب انہوں نے بھی دوڑ دھوپ کرکے اپنے دینا ر واپس لئے مگر ان کو لاری بہت خراب حال کی ملی۔ بے سیٹوں کی سپاٹ

نماز شہرکےبعد باقی حال لکھوں گی وضو کرکے حرم جارہی ہوں۔

اضافہ حسرت

یہاں تک لکھنے کےبعد مدینہ منورہ میں بیگم حسرت کی طبیعت بہت علیل ہوگئی اور خط نامکمل رہ گیا۔مدینے سے مکے تک سفر حج اوراس کے بعد پھر مدینہ ہو کرہندوستان تک واپسی کابقیہ حال میںاپنے روزنامے کی مدد سے بالاجمال درج کئے دیتاہوں۔

خدا خدا کرکے بڑی دوڑ دھوپ کےبعد صالح آفندی قائم مقام یعنی حاکم نجف سےملاقات ہوئی۔ انہوںنے سب حال سن کرکمپنی والوں کو بلوایااور ان کو حکم دیا کہ ان کو کل ہی والے قافلے میں بھیجنااوررضوان کو بھی نصف ٹکٹ پانچ دینار میں دوچنانچہ ہم لوگ ۱۶فروری ۳۶ء کولاری میں نجف سے روانہ ہو کر پانچ دن میں مدینہ بخیریت پہنچ گئے اوروہاں سے ۲۷فروری ۳۶ء کو بغرض حج کے روانہ ہوئے۔نجف سے مدینے تک عراقی لاریوں میں بڑے آرام سے سفر طے ہوا۔ عراقی لاریاں گدے داربہت اچھی ہوتی ہیں اور ان کے شوفر بھی نسبتاً نیک اور خوشخلق ہوتے ہیں۔ ہم نے شیخ عبداللہ سلیمان وزیر مالیہ حجاز سے تار دے کر دینے سے مکے تک اپنی اسی عراقی لاری میں جانے کی اجازت منگوالی تھی ورنہ اگربہ قاعدہ مقرر حجازی لاریوں میںجانا ہوتا جن کو لاری کے بجائے چھکڑا کہنا زیادہ صحیح ہوگا تو بیگم حسرت کاحج دشوار ہوجاتا۔ ۲۹فروری ۳۶ء بمطابق ۶ذی الحج کومکےپہنچے اور حج کے لئے عرفات تک بھی عراقی ہی لاری میں جانا آنا ہوا۔ فریضہ حج ادا کرکے ۴مارچ ۱۹۳۶ء سے ۱۰ مارچ تک مکے میں قیام رہا۔ مکے سے ۱۰مارچ کوروانہ ہو کر ۱۱مارچ کومدینے پہنچ گئےاور ۲۱ مارچ تک قیام کیا۔ ۲۵مارچ کوواپس نجف پہنچے اور ۲محرم کوکربلامیں دوبارہ حاضر دے کر ۳محرم کوبغداد شریف پہنچ گئے اور سای دن شام کو ذریعہ ریل بصرہ روانہ ہوگئے۔ ۲۸مارچ ۳۶ء بمطابق ۴اپریل ۵۵ھ کومیل بوٹ وارسودامیںروانہ ہوکر ۲اپریل کوکراچی اور ۴اپریل ۳۶ء کوکان پور واپس پہنچ گئے۔ قیام مدینہ ۷سفر حج اور واپسی سفرہندوستان کے حالات بھی بہت ضروری اور دلچسپ ہیں لیکن افسوس کہ مدینے سے بیگم حسرت کی طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ پھران کے لکھنے کی نوبت نہ آئی البتہ سال گزشتہ یعنی ۱۹۳۵ء کے سفر حج کا پورا حال ان کےسفرنامہ حجاز میں موجود ہے جو علیحدہ  کتاب کی شکل میں شائع ہوگا۔