The World in the Eyes of a Woman

دنیا عورت کی نظر میں Translated by: Daniel Majchrowicz. Original language: Urdu
Damascus
1909

Begum Sarbuland Jang

Hyderabad, India
1864-1930

The Urdu text above corresponds to the excerpts provided below, as well as those published in the companion volume.

 

City life in Damascus

Two-horse carriages can be had very cheaply here, and can also be found at any time. Phaeton carriages and other vehicles are also widely available. In our India, the common people use simple yakkas and tongas, while here fine carriages are the norm. We finally arrived at the doors of the [Umayyid] Mosque, taking in all the sights along the way. When we arrived there were still ten minutes until the sunset prayer was to begin. I examined the mosque from top to bottom. I am incapable of giving a fitting description of this mosque. It is extremely large, and very beautiful. The floor of the mosque is covered in an exquisite carpet. The lighting is provided by ornate glass lamps, and the entire place is built of marble. The courtyard of the mosque comprises a large open-air floor, the whole of it made of marble. At that moment, all of the mosque’s chandeliers had been lit; all the wall-lamps were lit as well.

The prayer-leader took his place on the pulpit. The sunset call to prayer began, recited in the most melodious tones. We first performed two sets of prayer upon entering the mosque. When the first sounds of the takbīr reached our ears all those gathered for the prayer got to their feet. It seems that the takbīr is given by several callers who are posted throughout the mosque. Because of this arrangement, you can easily hear the takbīr at the appointed moment for bowing and prostration no matter how near or far you are from the front. Although I was located in the back, I was still able to hear the takbīr clearly. Praise be to God, I completed the sunset prayer. When I began to have a look around after finishing my prayers, what did I see but four religious instructors, each sitting in his own corner – one for the Hanafis, one for the Shāfi’is, one for the Malikis, and one for the Hanbalis – each giving sermons and guidance to the people. By God, how wonderful it was! To what extent has the splendor of the Islamic religion spread here! Every task is performed at all times entirely in keeping with the dictates of the noble sharia. I stayed there for a while listening to the sermons and lessons. Unfortunately, these were given in Arabic and Turkish, neither of which I am able to understand.

 

At the Tomb of Hazrat Yahya [John the Baptist], peace be upon him

We then visited the holy shrine of our lord Hazrat Yahya, may peace be upon him. This blessed tomb is located inside the large hall of the mosque itself. It is surrounded on all four sides by an ornate railing made of glittering silver and gold. The grave is elevated and very large. Standing at the entrance to the tomb, I lifted the veil from my face, recited the fātiha, and gave my respects.

 

The Tomb of Hud, peace be upon him

After this, we went to the shrine of the prophet Hud, on whom be peace. The location is only indicated by some green stones which are set into the wall. I have heard that his blessed tomb is below these. Again, I recited the fātiha and greeted the saint.

 

The Blessed Tomb of Hazrat Khizr, peace be upon him

Having received blessings in these places, we then proceeded to present ourselves at the shrine of Hazrat Khizr. Here too were those same markers set into the wall. We both gave our greetings to Hazrat Khizr, upon whom be peace.

 

              ۴    دسمبر ۱۹۰۹

آج چوتھاروز مدینہ چھوڑے ہو گیا۔ صبح ہی سے ہم دونوں اٹھے ہیں۔ صاحب نے فرمایا کہ آج تین بجے دن کے دمشق پر ہم کو اترنا ہے۔

دمشق کی سیر

میں نے یہ سن کر امینہ بی کو حکم دیاکہ سامان درست کرلو۔ آج اترنا ہے یا ۔۔ ترک بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارے سامان کی حفاظت کرتے ہیں۔ بعد تین بجے کے ہماری ریل دمشق کے سٹیشن پر ٹھہر گئی۔ اس راستہ میں ہم کو بڑے بڑے سٹیشن ملے۔ سٹیشنوں پر غسل خانے، آرام کےلئے جگہ اور  پانی کے نل جا بجا لگے ہیں۔ دمشق کا سٹیشن بھی اچھارونق دار اور بڑا ہے۔ ہم ریل سے اترے کوک نوکر بدستور تیارملا مگرایک عرب ہوٹل والاملا۔اس نے بہت تعریف کی اورکہا کہ آپ ہمارے ہوٹل میں چلیں۔ آپ مسلمان ہیں اورہم بھی مسلمان ہیں۔ آپ ضرور میرے یہاں چلیں۔ نواب صاحب نےاس کے اصرار پر ہوٹل کا نام پوچھا۔اس نے کس قدرپیارا نام بتایا۔ کہنے لگا’’مدینہ منورہ میرے ہوٹل کا نام ہے‘‘ میں نے یہ سنتے ہی نواب صاحب سے کہا کہ آپ اسی ہوٹل میں چلیں۔ مجھے اس نام کاہوٹل پسند ہے۔نواب صاحب بھی یہ نام سن کر خوش ہوئے۔ صاحب ہوٹل نے ہماراسامان اٹھاکر ایک عمدہ فٹن میں رکھا۔ ہم ہوٹل میں آئے کرایہ فی کس دس آنے روزمعلوم ہوا۔ مجھ کو حیرت ہوئی کہ اس قدرسستا۔ میں اس عرصہ میں جرمن و انگریزی ہوٹل دیکھے ہیں کرایہ دس دس روپے آٹھ آٹھ روپے دیئے ہیں۔ آج یہ پہلا ہوٹل مسلمان ملاہے۔ ہم اندر آئے۔ زینہ سنگ مرمر کاتھا۔ سیڑھیوں پر فرش دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہوٹل تو اچھا معلوم ہوتا ہے۔ جب اوپر پہنچے توایک کمرہ ملا جس میں چھ پلنگ لگے ہیں مگر بستر میلا، کمرے کےکونوں میں جالے لگے ہوئے ہیں۔ عمارت نہایت عالی شان عمدہ ہے مگر سامان کچھ نہیں۔ میز نہایت میلی، آئینہ ٹوٹا ہوا۔انگریزی ہوٹل میں میں نے دیکھا کہ کمبل کے نیچے ایک چادر لگادیتے ہیں تاکہ کمبل کو کسی کا پسینہ نہ لگے۔ ایک مسافر اوڑھ لے تو دوسرے کے لئے فوراً وہ چادر بدل دیتے ہیں اور کمبل محفوظ رہتا ہے۔ پسینہ کی بو سے خراب نہیں ہونے پاتا۔ یہاں بجائےکمبل کے لحاف ہیں، وہ بھی اتنے میلے کہ پسینہ کی بو آتی ہے۔ افسوس ان لوگوں کو کب صفائی آئے گی۔ ان کے لحافوں کے نیچے چادر نہیں لگائی جاتی۔ کمرے بہت خوبصورت ہیں۔ فرش نہایت عمدہ سنگ سیاہ و سنگ مر مر کاہے۔افسوس صفائی نہیں اکثر انگریزی ہوٹل میں جب چاہو پانی گرم وسرد ملتاہے، یہاں گرم پانی ندارد۔ صرف ایک تولیہ ملاوہ بھی میلا بدبودار۔ میں نےسرکار سے کہا کہ خیر اب تو آگئی ایک شب یہاں رہوں گی۔ صرف اس خیال سے نام نہایت مبارک اور اہل دین کا یہ ہوٹل ہے۔ورنہ میں تو ایک منٹ یہاں نہ ٹھہرتی۔ ایک کمرہ اور لیا اور امینہ بی سے کہاکہ تم اس میں سو رہو۔ اب میں نےغسل خانہ دیکھا تو نہایت غلیظ۔ ایسی بدبو کہ دماغ سڑ گیا۔ ایک کھڈی بنی ہوئی ہے۔ پانی سب بہہ رہا ہے۔ ٹین کا ایک میلا لوٹا اور ایک ٹب پانی سے بھرا رکھا ہے۔ اس ٹب میں ٹونٹی لگی ہے اگرچہ غسل خانہ میں بھی فرش سنگ مرمر کا ہے لیکن افسوس اس کوبھی بے حد میلا کر رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھ سے تو اس کھڈی پر نہیں جایا جاتا۔ نواب صاحب نے ایک پسپاٹ میرے لئے خرید کر منگوایا۔ غسل خانہ اس قدر چھوٹا ہے کہ دروازہ بند کرنا مشکل ہے۔ صاحب ہوٹل نے کہا کہ ۔۔۔ شب کے ٹھہرنے کے لئے مقرر ہیں۔ کھانا چائے کافی ہمارے ہاں نہیں مل سکتا۔

میں نے ان سب چیزوں کو دیکھ کر سرکار سے کہا کہ اس وقت ابھی چاربجے ہیں۔ غسل خانہ صاف نہیں ہے اور میں نہا کر چلنا چاہتی ہوں۔ یہاں سنا ہے کہ سیدالشہدا، مظلوم کربلا، مقتول ظلم و جفا نواسہ رسول محمد ﷺ امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک دمشق میں دفن ہے نیز دیگر پیغمبروں کے مزارات اور بہت سے بزرگوں کے مزار بھی ہیں۔ یہ سن کر میرا دل بہت خوش ہوا کہ کیسی کیسی زیارتیں ہم دونوں کو نصیب ہو رہی ہیں۔ نواب صاحب نے فرمایا کہ اچھا میں پوچھتا ہوں کہ میاں صاحب ۔۔ کا مقام کس جگہ ہے؟مالک ہوٹل سے سرکار نے دریافت کیا اس نے جواب دیا کہ مافی حمام الی ہوتل لاکن حمام فی البلد میں نے یہ سن کر کہا کہ کیسی مشکل ہے کہ حمام بجائے گھر میں ہونے کے شہر میں ہے۔میں اب کیسے غسل کروں اور جلدی سے تیارہوں۔ ریل میں تمام چھینٹیں وغیرہ پڑی ہیں وقت عصر آگیا ہے اور ٹھہرنا صرف ایک ہی شب ہے۔

تب سرکار نے کہا کہ ’’یہاں کا قاعدہ ایسا ہی ہے۔ حمام زنانہ و مردانہ شہر میں ہوتے ہیں اورسب وہیں جا کرزن و مرد غسل کرتے ہیں۔ کیا غریب کیا امیر۔ دستور یہی ہے۔ حمام آرام دہ نہایت عمدہ ہوتے ہیں نہانےوالے موجود نہیں ہیں۔‘‘

میں نےکہا کہ اگر یہی دستور ہے تو اچھا مجھ کو حمام لے چلو۔ میں جلدی سے نہا کرزیارت کو چلتی ہوں۔

یہ کہہ میں نے ایک جوڑا کپڑے، صابن، بیسن، کنگھی وغیرہ چھوٹے بیگ میں رکھ لیا۔ امینہ بی کو ہوٹل میں سامان کے پاس چھوڑا۔ سرکار نے بھی کپڑے لے لئے کہ میں بھی حمام کرلوں گا۔

ایک حمام میں سب ننگے

ہم دونوں ہوٹل سے روانہ ہوئے یہاں سے قریب تر ہم کو دو حمام ملے۔ ایک مردانہ دوسرا زنانہ۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے ایک عورت نکلی۔ مجھ کو دیکھ کر کہاکہ ’’مرحبا تفضل تفضل‘‘ یہ سن کر میں اندرگئی۔ سرکار نے کہا طہارت فراغت ہو آنا میں بھی جلد ہی نہا کر نکل آئوںگا اورتمہارا انتظار کروں گا۔ میں اچھا کہہ کر اندر گئی دیکھا تو یہاں تیس چالیس بیبیاں جمع ہیں۔چھوٹے چھوٹے کمروں میں فرش ہو رہا ہے قالین بچھے ہیں۔ بیچ انگنائی میں آئینہ دار چھت پڑی ہوئی ہے کہ روشنی تو آئے مگرہوا نہ آئے۔ انگنائی کے بیچ میں ایک حوض پانی سے بھرا ہوا ہے اور گوری گوری سرخ و سفید بیبیاں نہا کر کپڑے بدل رہی ہیں۔ بعض کپڑے اتار کر اندر حمام میں نہانے کو جارہی ہیں۔ دمشق کے تمام مردوزن کو میں نے گوراگورا دیکھا سوائے حبشی لوگوں کے۔ میں ٹھہری کہ یہ توبڑی مشکل ہوئی۔ جب سب نہالیں تو  نہانا شروع کروں بس اسی خیال میں کھڑ ی تھی۔ ایک بی بی میرے پاس آئی اور بیگ ہاتھ سے لے لیا اور کپڑے اتارنے لگیں۔ میں نے کہا ’’صبراً صبراً‘‘ اس نے کہا ’’لااجر‘‘ اور خداجانے کیا بولتی رہی عربی میں۔ جب میں نے دیکھا کہ یہ نہیں مانتی توخاموش ہوگئی۔ اس نے سب کپڑے میرے اتارڈالے۔ میں نے ایک تولیہ لپیٹ لیا یہ میرا ہاتھ پکڑ کر لے چلی۔ جب میں نےکمرے میں قدم رکھا تو میرے پائوں جل گئے۔ اوپر روشندان بنے ہیں ۔گرم دھواں سب باہر نکل جاتا ہے۔ میں نے کہا اری ظالم ٹھہر میرے پائوں جلے جاتے ہیں۔ مگر وہ گھسیٹ رہی ہے کہ آئواندر چلو۔ غرضیکہ تین درجہ گزر کر چوتھے درجہ میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ یہاں سب بیبیاں بالکل برہنہ پانی کے نلوں کے پاس بیٹھی نہا رہی ہیں۔ ایک نل سے گرم ایک سے سرد پانی نکلتا ہے۔ نلوں کے پاس چھوٹے چھوٹے حوض بنے ہیں۔ ایک ساتھ دونوں نل چھوڑ دو تو پانی سمو جاتا ہے۔ اس عورت نے مجھ کومل مل کر نہلانا شروع کیا۔ بلکہ دوچار جو نہا رہی تھیں اپنا نہانا چھوڑ کر مجھ کو لپٹ گئیں ، ملنا شروع کیا اور عربی میں پوچھا ’’تم کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ میں نے کہا انا ہندی ال ہند حمام البیت البلدمانی حمام لاکن نہاانا شوفتہ حمام فی البلد ۔۔۔۔مافی انا تعجب۔ یہ بڑی مشکل سے دوچار باتوں کا جواب میں نے دیا مگر ان سب بیبیوں نے مجھ کو اس طرح نہلایا کہ عمر بھر تونہائی نہ ہوں گی۔ میں تو جلدی ہی کرتی ہوں اور وہ سب پانی ڈالے جاتی ہیں۔ مشکل سے پیچھا چھوٹا اور میں نے وہی گیلا تولیہ باندھ لیا تاکہ برہنہ باہر نہ جا سکوں مگر یہ سب کہتی ہیں کہ ’’یا اختی کلہم حرم ہما‘‘ میں نے کہا ’’نعم لاکن انا نعیت رومال ۔۔‘‘میں چلنے لگی تو پھر مجھ کو پکڑ لیااور کہا مابروح مابروح جس جس شوی شوی‘‘ میں نے کہا ’’ما اصبرانا عجلت انا لجوز الباب فی‘‘ تب انہوں نےمشکل سے مجھے چھوڑا۔ اب میں باہر نکلی مگر یا تو اندر جاتے وقت اول درجہ میں پائوں جلنے لگے تھے یا نکلتے وقت اول درجہ میں ہی سردی لگنے لگتی ہے۔ جلدی سے بھاگ کر باہر نکل آئی اور تخت پربیٹھ گئی۔ ایک بی بی آ کرمیرے بال پونچھنے لگی اورپوچھا ’’انت الہندی طیب‘‘ میں نے کہا ’’کثیر طیب‘‘ غرض اب میں تیار ہوگئی اور ایک شلنگ اس بی بی کو دیا۔ سلام کرکے اپنا بیگ لے کرمیں باہر آئی یہاں سرکار میرے انتظار میں کھڑے تھے۔ اول ہم ہوٹل آئے بیگ امینہ بی کو دے دیئے اورفوراً یہاں سے چلے۔

مسجداموی

اول مسجد اموی جومشہور مسجد ہے وہاں چلے۔ ہم جلدی جلدی اس طرف جاتے ہیں تاکہ وقت پر پہنچ جائیں اور نمازمغرب میں شریک ہوسکیں۔ راستہ میں دمشق کے بازار دیکھے۔ یہاں کے بازار چھت دار ہیں تاکہ لوگ بارش اور دھوپ سے محفوظ رہیں۔ اکثر بازار کھلے ہوئے ہیں۔ اکثر مقام پر پانی کی نہر رواں ہے۔ اہل دمشق سرخ و سفید ہیں۔ لباس عورتوں کا بالکل یورپین ہے۔ بال بھی مثل یورپین لیڈیز کے بنے ہوئےہیں البتہ ٹوپی  نہیں ہوتی۔ یہ بیبیاں کیا امیر کیا غریب جب واک کے لئے ۔۔۔ کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہیں تو ایک سادہ سکرٹ پہنتی ہیں۔ سر کے اوپر ایک دیسی ۔۔۔ شال جیسی سکرٹ کا رنگ ہوتاہے۔ ڈال لیتی ہیں جو ہاتھوں تک آ جاتی ہے۔ چہرے پر نقاب ہاتھوں میں دستانے چھتری لگائی اور باہر نکل آئیں۔ اکثر بوڑھی عورتیں سر پر برقعہ باندھ لیتی ہیں مگر لباس وہی یا تو مثل ڈریسنگ گون کے یا وہی سکرٹ بلائوز مثل ۔۔ لیڈیز کے پہنتی ہیں۔ بچوں کو وہی فراک یعنی رومال بھی کانوں تک باندھ لیتے ہیں۔ یہاں رواج ہے کہ تمام مسلمان خواتین بے تکلف سیر کوجا سکتی ہیں۔ یہ بہت بڑا آرام ہے۔ خدا ہند کی قید بیجا سے خواتین کو بچائے۔ ایک بات مجھ کو اور پسند آئی کہ جب خواتین باہر نکلتی ہیں تو مرد دور ہو کر راستہ چلتے ہیں عورتوں کا ادب کرتے ہیں۔ برخلاف ہند کے کہ عورتوں کی کوئی عزت مردوں کے آگے نہیں۔ افسوس ہے اہل ہند پر۔

جوڑی لگی ہوئی گاڑیاں بہت سستی کرایہ پر ملتی ہیں اور ہر وقت مل سکتی ہیں فٹن وغیرہ سب طرح کی سواریاں آسانی سے مل سکتی ہیں۔ ہمارے ہند میں تو یکہ تانگہ عام لوگوں کے لئے ملتے ہیں یہاں عمدہ عمدہ گاڑیاں عام طورپر چلتی ہیں۔ ہم سب دیکھتے بھاگتے مسجد اموی کے دروازہ پر آن پہنچے۔ ابھی نماز مغرب میں دس منٹ ہوں گے جو ہم داخل مسجد اموی ہو رہے ہیں۔ میں نے اس مسجد کو نیچے اوپر سے خوب دیکھا ہے۔ اس مسجد کی تعریف بیان نہیں کرسکتی۔ بہت ہی بلند اوربہت ہی بڑی نہایت خوبصورت ہے۔ فرش مسجد نہایت عمدہ قالین کا ہے۔ روشنی کا سامان شیشہ آلات سے نہایت آراستہ ہے۔ درو دیوار تمام سنگ مرمر کے ہیں۔ مسجد کا صحن بہت بڑا میدان ہے جس میں تمام سنگ مرمر کا فرش ہے۔ اب مسجد کےتمام جھاڑ روشن ہوگئے۔ خوبصورت دیوار گیریس بھی روشن کردی گئیں۔

مسجد اموی میں نماز

رئیس منبر پر چڑھا ۔ مغرب کی اذان نہایت خوش الحانی سے شروع ہوئی۔ ہم نے اول دو رکعت نماز داخلہ مسجد ادا کی۔ اب جماعت کھڑی ہوگئی۔ تکبیر کی آواز کان میں آئی۔ غالباً ہر کونے پر ایک ایک موذن تکبیر کہتا ہے۔ اسی وجہ سے قریب و بعید تکبیر کی آواز وقت رکوع و سجود برابر سنائی دیتی ہے کیونکہ میں آخر میں ہوں اور آواز تکبیر برابر سنائی دے رہی ہے۔ الحمد للہ کہ نمازمغرب ادا ہوگئی اور میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتی ہوں کہ چارمعلم چار طرف بیٹھ گئے۔ ایک طرف حنفی، ایک طرف شافعی، ایک طرف مالکی، ایک طرف حنبلی اوروعظ درس تمام لوگوں کو دینے لگے۔ ماشا اللہ کیسا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ کس قدر دین اسلام کی روشنی اس طرح پھیلی ہوئی ہے۔ ہروقت برابر ہر کام شرع شریف کےموافق نہایت پابندی سے ادا کیا جاتا ہے۔ درحقیقت اسلامیت ان ہی اطراف میں ختم ہے۔ ہم نے کچھ دیر درس و عظ سنا مگر افسوس یہ وعظ و درس عربی و ترکی زبان میں تھا جو میری سمجھ میں نہیں آیا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کےمزارپر

تھوڑی دیر میں ہم دونوں حضرت سیدنا یحییٰ علیہ السلام کے مزارشریف کے پاس آئے۔ یہ مزار مبارک مسجد کے بڑے کمرے کے درمیان میں ہے۔ چاروں طرف نہایت خوبصورت کٹہرا سونے چاندی کےکام کا بنا ہے اور چمک رہا ہے۔ مرقد مبارک نہایت بڑاا ور اونچا ہے ہم پردہ اٹھاکر چوکھٹ پر کھڑے ہوگئے اورفاتحہ پڑھی۔ سلام ادا کیا۔

حضرت ہود علیہ السلام کا مزار

اس کے بعد حضرت ہود پیغمبر علیہ السلام کے مقام پر آئے یہاں صرف سبزپتھرکا نشان دیوار میں لگادیا ہے نیچے سناہے کہ مرقد مبارک ہے یہاں بھی سلام و فاتحہ ادا کی۔

حضرت خضرعلیہ السلام کامزار مبارک

اب ہم یہاں سے مشرف ہو کر حضرت خضرعلیہ السلام کے مقام پرحاضرہوئے یہاں بھی ایسا ہی نشان دیوار میں لگاہے ہم دونوں نے سلام بنام حضرت خضر علیہ السلام ادا کیا۔

شہید کربلا حضرت امام حسین ؑ کے سرمبارک کا مزار

اب ہم دونوں یہاں سے سب دیکھ کر اورالحمد للہ کہ زیارات سے مشرف ہو کرشہید ستم مظلوم وصابر سبط اصغررسول کریمؐ اپنے پیارے جناب امام حسین ؑ کی خدمت میں چلے۔ یہاں سناہے کہ میرے پیارے امام ؑ کا سر مبارک دفن ہے۔ ہم دونوں یہاں حاضر ہوئے۔ نہایت ادب سے کھڑے ہوگئے یہاں پہنچتے ہی ایک عجیب کیفیت و اثر قلب پر ہوا جو ناقابل بیان ہے۔ نواب صاحب نے کہاکہ دیکھو کیسا اثر قلب پر ہو رہاہے۔ میں نے کہا کہ ہاں اور آنسو ہم دونوں کے جاری ہوگئے۔ دل ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ یہاں سے ہٹیں۔ ایک گھنٹہ کامل ہو گیا مگر ہم دونوں یہاں حاضرہیں۔ دل اٹھنے کو ہرگز نہیں چاہتا۔ جب عشا کی اذان کان میں آئی تب ہم دونوں کا دل ہوشیارہوا۔ مکرر نے فاتحہ و سلام ادا کیا اور رخصت ہوئے۔ اللہ اللہ اہل بیت نبی ؐکی توجہ و تصرف امت عاصی پر جس کا دل اس مزے سے واقف ہوچکا ہو بس وہی اس کا لطف سمجھ سکتاہے۔ میں اپنے قلب کے تسکین و آرام پانے و متاثر ہونے کاحال بیان نہیں کرسکتی۔ اب ہم مسجد کے دالان میں آئے اور جماعت کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ سبحان اللہ و الحمد للہ کہ نمازعشا ادا ہوئی اور جلسہ برخاست ہونا شروع ہوا۔ ہم دونوں بھی مسجد سے باہر نکلے اور آہستہ آہستہ بازار کی سیر کرتے آرام سے ہوٹل میں آئے۔ یہاں کھانا ہوٹل والے نے خرید رکھا تھا۔ کھانا کھایا، کافی پی۔ کافی یہاں نہایت مزیدار ہوتی ہے ۔ بعد کافی پینے کے آرام سے سو رہے۔

                                                                            ۸    دسمبر ۱۹۰۹

آج صبح کوہم لوگ اٹھے الحمد للہ کہ نماز فجر ادا ہوئی کچھ ناشتہ کیا۔ میرادل چاہا کہ ایک بار اور حمام میں جاکر نہائوں۔ اول تو بدن کو آرام ملا تھا۔ دوسرے یہ بھی ہمارے سفر کی یادگار ہیں۔ یہ خیال کرکے میں نے سرکار سے کہا تو انہوں نے صاحب ہوٹل سے پوچھا کہ کیا صبح کو حمام تیار ہوتا ہے۔ ہم پھر حمام جانا چاہتے ہیں۔ اس نےکہا ’’لابعد ظہر رفتانی‘‘ ہم کو بارہ بجے کی گاڑی سے جانا تھا۔ تب میں نے کہا کہ اچھا جانے دو مگر تھوڑی دیر بعد مالک ہوٹل آیا اور کہا کہ ایک حمام ہے جو آدھے گھنٹے کےبعد کھلے گا۔ میری بی بی ابھی آتی ہے۔ آپ کی بی بی کے ہمراہ جاوے گی اور حمام بتادے گی۔ تب میں نے اپنا بیگ لیا اور کپڑے وغیرہ رکھ لئے تیار ہوکر بیٹھ گئی۔ عربن بی بی کے آتے ہی روانہ ہو جائوں۔ اسی انتظار میں عربن بی بی  خوبصورت ترکی سکرٹ پہنے نقاب چہرے پر ڈالے آگئی اور کہا ’’بسم اللہ بفضل‘‘ میں اس کے ہمراہ ہولی۔ سرکار انتظار ریل کے لئے باہر سدھارے۔ یہ بی بی اپنے گھر میں لے گئی اس کا گھر مجھ کو بہت پسند آیا کیونکہ ہوٹل سے زیادہ گھر صاف ہے۔ پانی کی نہر نہایت صفائی کے ساتھ ایک طرف جاری ہے دو منزلہ ہے نیچے کی منزل دیکھتے ہوئے اوپر کی منزل پر آئی۔ یہاں ایک بڑا کمرہ دیکھا فرش وغیرہ سب عمدہ قالین کا ہے صوفے کرسیاں عمدہ رکھی ہیں۔ مالک ہوٹل کی ماں ایک تخت پر بہت اچھا نرم گرم گدہ بچھائے بیٹھی ہے۔ یہ بیچاری بی بی بہت ضعیف ہے مجھ کو دیکھ کر بڑی مشکل سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور ’’تفضل تفضل‘‘ کہا۔ میں نے اس بی بی کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا اور کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں۔ اب صاحب ہوٹل کی بہن اوربچی بھی آئی۔ یہ سب خواتین بالکل انگریزی لباس میں ہیں۔ بچی فراک پہنے ہے۔ یہ لوگ بہت خوبصورت ہیں۔ رنگ ان سب کا نہایت سرخ و سفید ہے۔ مجھ کو دمشق کے مکانوں کی قطع پسند نہ آئی۔ اول تو کئی کئی منزلہ ہوتے ہیں دوسرے اکثر اندھیرے کمرے تاہم یہ کمرہ تو روشن ہے۔ پنچیں دیوار سے لگا کر خوب نرم گدے دار بچھائی ہیں جن کے اردگرد سب بیٹھ جاتے ہیں۔ میں بھی صاحب ہوٹل کی ماں کے قریب بیٹھ گئی۔ یہ سب بیبیاں عربی بولتی ہیں افسوس کہ میں مشکل سے سجھ سکتی ہوں۔ ان خواتین نے بہت خاطر کی کافی پلائی۔ یہاں بلا دودھ کے کافی پیتے ہیں مگر نہایت بامزہ ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے پیالوں میں پی جاتی ہے جن کو یہاں فنجان کہتے ہیں۔ بیس منٹ کے بعد مالک ہوٹل کی بی بی اٹھی، نقاب چہرہ پر ڈال لی اور کہا ’’تفضل یا سنی نخنوی نحنوی حمام لازم‘‘ میں نے کہا ’’نعم‘‘ اور ان سب سے مل کر ہاتھ چوم کر رخصت ہوئی۔ یہاں کا قاعدہ ہے کہ وقت رخصت ہاتھ ملاتےاور چومتے ہیں۔ میں اور یہ بی بی کوئی دس ہی منٹ میں حمام پہنچ گئے۔ بدستور سابق میں اندر گئی۔ آرام سے نہا دھو کر فارغ ہوکرکپڑے وغیرہ پہن کر باہر آئی۔ ایک بشلک حمام والی کو دیا اور مالک ہوٹل کی بی بی کو یہ خوش ہوگئی۔ راستہ میں سرکارملے۔ دونوں ہوٹل آئے۔ سامان اورامینہ بی کو ہمراہ لیا مالک ہوٹل کو جو دینا تھا دے دیا۔ مالک ہوٹل کی بی بی پھر آئی اورمجھ سے کہا چلو میں تم کو کچھ سیر یہاں کی کرادوں۔ میں نے سرکار سے کہا ابھی تو تھوڑا وقت ہے۔ آپ حکم دیں تو میں اس بی بی کے ہمراہ یہاں کچھ دیکھ آئوں۔ سرکار نے اجازت دی۔ میں اس بی بی کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ یہ مجھ کو ایک دکان میں لائی۔ دکاندار انگریز معلوم ہوا۔ میں نے پوچھا ’’آر یو اسپیک انگلش؟‘‘ اس نے کہا ’’یس۔‘‘ یہاں گرم دستانے اور تین فراک جو خوبصورت معلوم ہوئے خرید لئے اور جلدی سے ہوٹل واپس آئی۔

Further Reading

SourceBegum Nawab Sarbuland Jang, Duniya Aurat ki Nazar Men – Mashriq o Maghrib ka Safarnama. (Delhi: Khwaja Buk Dipo, Khwaja Barqi Pres, N.D.).