A Tour of Europe

سیر یورپ Translated by: Daniel Majchrowicz. Original language: Urdu

Travelling from Lake Geneva to Zurich

We left Territet on the 1 p.m. train. We had to change trains in Lausanne. Lausanne is a very beautiful city. This is the city where the peace conference of the Turko-Greek war was held. Bern, which is the capital of Switzerland, is also a very nice city. We reached Zurich at eight in the evening. My heart was restless as I did not know the whereabouts of my dear brother, Mahdi Ali Mirza. God only knew if he had arrived yet or not. If he had not yet arrived from Geneva then I would not be able to see him for another four years. Who knew when I would be able to again? This question roiled my heart. God only knew if Mahdi Ali had come or not. We went to the hotel and ate dinner. After dinner, I was sitting in my room saying heartfelt prayers for the arrival of my dear brother Mahdi Ali when all of the sudden there was a knock at the door. This prayer burst from my heart: Ya allah! let it be my brother Mahdi.

I got up, opened the door, and whom did I see but Mahdi standing there! I hugged him, and Barrister sahib hugged him as well. Tears of happiness fell from my eyes. I am unable to describe exactly what I felt as I embraced my beloved brother, who is dearer to me than my own life. Maulvi Barkat Ali sahib was with him but, in that moment, I didn’t even notice him. The emotions of love were so strong that I began to cry. He is my youngest brother. He was only twelve days old when our mother passed away. When he was two months old our father departed from this world. He is not my brother, he is my son. He is the light of my eyes, the joy of my heart, and the cure of my sorrows. May God grant him every success. He is going to Germany for his studies, to Satrenz, for his B.A. Masha allah. He is now twenty-one. May God protect him from all evil. I asked Mahdi how things were in Hyderabad. I only turned to address Maulvi sahib after my conversation with Mahdi had ended.


A Description of Zurich

September 6th, 1924: At 11 a.m. we got in the Thomas Cook vehicle for a tour of Zurich. The charge for this service is ten francs per person. We departed from Bahnhof Street, which is the premier commercial avenue of the city. Our first stop was the National Museum. We went into one room with reconstructed huts from the pagan era. There were old tombs there, along with some bones from the wealthy of that time. Some of the bones were two thousand years old. We also visited a room with ancient clay pots and iron tools used for cutting and digging. We saw many such rooms. As each era progressively advanced, so did human society. Human civilizations went on improving gradually. Humans learned to weave and to wear clothes. Instead of clay pots, they began to use brass made with copper. Every type of ancient artefact was present there. In one room there was ancient kitchenware. In the early period, food was cooked in pots that were suspended by chains over a fire. There were also houses from the year 1400 that had been brought to the museum whole. They also brought entire rooms from castles and palaces from 1500, from 1600, from 1700. They showed the equipment used for horse riding in those times. All of this is here. The cart that once carried the mail is there. Carts, called ‘sledges,’ that were pulled by deer are also on display. These items are from many different historical eras.

From the museum we went to the university. We looked at the buildings with their various departments. Forestry, agriculture, mining, etc. are taught there. Students here are given a free education until high school whether they are rich or poor. Even the books are given to them for free. Funds are made available by the state. In the summer students are sent into the mountains with the intention of improving their health. The state provides the funding for this, too. This admirable system of education is provided freely. Germany, London, etc. do not follow this system. Under it, everyone may obtain an education. It is an excellent arrangement. The Swiss government is very wealthy because it has never participated in a war.

From there we went, passing by the Civil Hospital, to the area of town that sits higher on the mountain. The city is divided into two sections, the old town and the new. The latter was founded forty years ago. It is spread over two hills which encompass about thirty square miles. From here, you get a magnificent view of the town spread out over the plain below, most of which lies on the shores of Lake Zurich. The whole of Zurich is seen as though it were in the palm of your hand. The views as our car drove over the mountains were enchanting. Zurich is the largest city in Switzerland. It is even larger than the capital city of Berlin in terms of area, population and trade.

From there we went to see the cemetery. This cemetery is very large, too. It is very clean, and the gardens and landscaping are well-kept. There is also a building for cremations. From the cemetery we returned to the hotel. Maulvi Barkat Ali sahib came to visit us. He gave me a book he had written on the Caliphate for me to have published. I said that I could not promise to have it published. “I’ll take it now and publish it if I am able. If I cannot, I will return it.” To Barrister sahib he gave a book about the Caliphate in English.

سیر یورپ

مقام زیورچ سوئٹزرلینڈ

4ستمبر۔ ٹرین میں جو ریستوران ہوتا ہے اس میں چائے پی۔ طبیعت بہت سست او رخراب ہے۔ تمام رات نیند نہیں آئی۔ جب صبح ہوئی تو منظر کی خوبصورتی معلوم ہونے لگی۔ وہ سبزہ زار، وہ خوبصورت وادیاں، وہ کہسار، آبشار غرض عجیب خوبصورت منظر ملتے گئے۔ یہ قدرت خدا کے کرشمے ہیں کسی کے ہاتھ کی بنائی ہوئی دستکاری نہیں ہے۔ ایک بجے بنگش اسٹیشن آیا۔ اس کے قریب دو پہاڑ ہیں۔ دونوں پرپرانے زمانے کےقلعے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں جرمنی کی حد ختم ہوتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کاعلاقہ شروع ہوتاہے۔ یہیں تکو ٹرین سے اترنا پڑا۔ پاسپورٹ دیکھا گیا۔ ہمارے سامان پر صرف ایس کا حرف لکھ دیا پھر ہم اسی میں بیٹھ گئے۔ یہاں کے منظر کی تعریف میں کر نہیں سکتی۔ سبزی میں تو بلا کی تازگی اور خوبصورتی ہے کہ یہاں سے باہر۔ یہ جنگل فرانس اور جرمنی اور لندن کے جنگل کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی حالت ہی نرالی ہے۔ تمام جنگل اور پہاڑوں پر سبز سبز گھاس کا فرش ہے اور کہیں کہیں درخت ہیں۔ کہیں گھنے درخت ہیں۔ کہیں ندیاں ہیں کہیں پہاڑہیں۔ مرغزاروں میں ایک قسم کی گاڑی ہوتی ہے جس کو گھوڑا کھینچتا ہے۔ جس سے تمام جنگل کی گھاس تراشی جاتی ہے جس کا انبار الگ لگاتے جاتے ہیں۔ لندن، فرانس، جرمنی کے جنگلوں میں گھاس جب بڑی بڑی ہوتی ہے اس وقت کاٹتے ہیں اس کےپولے بناتے ہیں۔ یہاں وہ طریقہ نہیں ہے یہاں اس طرح کاٹتے ہیں جس طرح ہمارے ہاں باغ میں یا چمن میں گھاس تراشی جاتی ہے جونئی گھاس کی کونپلیں سبز سبزنکلتی ہیںبہت ہی بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ یہاں بیل اورگائے کے گلے میں گھنٹیاں باندھتے ہیں۔ جب بیل یا گائیں جنگل میں آتی ہیں تو گھنٹوں کی آواز آتی ہے۔ تمام یورپ میں، میں نے کہیں بیل گاڑی نہیں دیکھی۔ صرف یہاں کے جنگل میں بیلوں کے جھگڑے دکھائی دیئے۔

تین بجے زیورچ کے اسٹیشن پر پہنچے یہاں جناب مولوی برکت اللہ صاحب ہمارے منتظر کھڑے تھے۔ انہوں نے ہمارے لئے سنپلوں ہوٹل میں بندوبست کرلیا تھا۔ وہ اور ہم مل کر روانہ ہوئے۔ سامان بریک سے اتار لیا گیا۔ مولوی برکت اللہ صاحب تبلیغ اسلام کا کام ایک زمانے سے کر رہے ہیں۔ یہ اور بیرسٹر صاحب ایک ساتھ یورپ میں بہ زمانہ تعلیم تھے۔ اس لئے ان سے اور بیرسٹر صاحب سے وہی پرانی دوستی قائم ہے۔ اسی تعلق سے انہوں نے زحمت گوارا فرمائی۔ بہت لائق شخص ہیں۔ انگریزی کے علاوہ عربی کے عالم ہیں۔ ترکی وغیرہ بھی جانتے ہیں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ جنگ کے زمانہ میں بھی اسلام کی بہت خدمت کی تھی۔ چہرے سے بھی نہایت شریف اور بردبار معلوم ہوتےہیں۔ ضعیف آدمی کے ہوٹل میں آتے ہی مولوی صاحب نے گفتگو شروع کی۔ مولوی صاحب نے کہا خلافت قائم رہنا چاہئے مگر اس طرح سے تمہیں جو زمانہ ٔ حال کا طریقہ ہے۔ بلکہ حضرت رسول ؐ کے زمانے کے بعد جس طرح خلافت کا طریقہ تھا یعنی خلیفہ تبلیغ اسلام کی کوشش کرے اوراسلام کی اشاعت کرے اور غلبہ آرا سے خلیفہ منتخب کیا جائے۔ ایک بادشاہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت رسولؐ کے زمانے میںبیت المال سے تبلیغ کا کام لیا جاتا تھا جو روپیہ خزانہ میں ہوتا تھا وہ بیت المال کہلاتا تھا۔ خلفائے راشدین ؓیا حضرت رسولؐ نے اس میں سے اپنے لئے خرچ نہیں کیا۔ خود تکلیف میں رہےاور اسی سرمایہ سے تبلیغ کا کام کیا۔ ملک پر خرچ کیا پھر کیا سبب ہے کہ آج کل کے خلیفہ بادشاہ ہوا کرتے ہیں ۔خلیفہ ایسا آدمی ہو جو پراپیگنڈا پھیلائے اسلام کی اشاعت کرے۔ ہرشہر میں ایک ایک مولوی بھیجا جائے۔ خیرات وزکوٰۃ جمع کرے۔ ہر شہر میں مسجد بنائی جائے۔ مسجد کے قریب خیرات جمع ہواس سے غرباکے ہاتھ سے کام لیا جائے تاکہ غریب مسلمان کچھ کام کریں۔

مولوی صاحب نے کہا میں نے خلافت پر ایک کتاب ابھی لکھی ہے جس کی آج ہی مطبع سے دو کاپیاں آئی ہیں۔ میں آپ کے دیکھنے کے لئے لائوںگا۔ اردو میں بھی لکھا ہے مگر چھپی نہیں۔ مجھ سے کہا کہ آپ کو اردو کا مسودہ دوں گا۔ آپ چھپوادیجئے۔ مولوی صاحب کا سلسلہ گفتگو ختم ہی نہیں ہوتا۔ بہت جوشیلے مسلمان ہیں۔ 35سال سے یورپ میں ہیں۔ اپنا وطن وغیرہ سب چھوڑ دیا۔ مقام تڑتے ہیں صالح کرامت بے کو جوحضور خلیفہ عبدالمجید ثانی کے سیکرٹری ہیں کو تار دے دیا کہ ہم لوگ حضرت خلیفہ کے ملنے کی غرض سے زیورچ آگئے ہیں۔ اب تراتے کب آئیں کون سا وقت حضرت خلیفہ کےملنے کا ہے۔ یہ تار دینے کے گھنٹہ بھر بعد ٹیلیفون ہمارے ہوٹل میں آیا کہ کل چار بجے آیئے۔ مولوی صاحب رخصت ہوئے اورکہتے گئے کہ اچھا کل پھر آئوں گا۔ ہم لوگوں نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد میں نے اپنا سفر نامہ لکھا۔ مہدی علی مرزا کی طرف دل لگاہواہے کہ وہ اب تک کیوں نہیں آئے۔

مقام تراتے (سوئٹزرلینڈ)

5ستمبر۔ چونکہ کل تھکے ہوئے تھے اس لئے دیر تک سو گئے ہیں۔ صبح کو حمام کیا۔کپڑے بدل کر ناشتہ کرکے بارہ بجےکی ریل پر سوار ہو کرحضرت خلیفہ عبدالمجید ثانی سے ملنے کی غرض سے روانہ ہوئے۔ اس اسٹیشن کا نام زیورچ بان ہاف ہے۔ یہاں کی ٹرین کی گاڑیوں کی ساخت الگ ہی ہے۔ بہت لمبی لمبی گاڑیاں ہیں۔ دو دو آدمی کے بیٹھنے کی جگہ الگ الگ بنی ہوئی ہے۔ اس ٹرین میں ریستوران کار بھی ہوتا ہے۔ ایک بجے ہم نے کھانا کھایا۔ کھانا نہایت عمدہ لذیذ تھا۔ انگور بہت عمدہ پیرز (قسم ناشپاتی) لاجواب تھے۔ دو آدمی کے کھانے کے پندرہ سوئس فراک ہوئے بائیس فرانک انگریزی ایک پائونڈ یعنی پندرہ روپے کے برابر ہوتا ہے۔ واہ واہ کیا خوبصورت سبزہ زار ہے۔ کہیں پہاڑوںکا سلسلہ ہے تو کہیں ندی بہہ رہی ہے۔ کہیں آبشار بہہ رہے ہیں۔ کہیں پہاڑ پر بستی بسی ہوئی ہے تو کسی پر سے آبشار کا پانی دھڑلے سے گر رہا ہے۔ ریل ہے کہ چلی جارہی ہے اورمیری آنکھ کہتی ہے کہ کون کون سی چیز دیکھوں اور کس کس چیز کی تعریف کروں۔ ششدر و دنگ ہوں پہاڑوں کے دامن میں جو زمین ہے۔ اس کی بھی یہی کیفیت ہے کہ کسی جگہ باغ ہے کسی جگہ کھیت، سبز سبز گھاس نے تو ستم ڈھایا ہے۔ تمام جنگل کے جنگل گھوڑوں کی گاڑیوں سے صاف کئے جاتے ہیں۔ ان اسٹیشن پر ٹرین بدلنی پڑی۔

اس کے بعد دوسری ٹرین میں سوار ہوگئے۔ راستے میں دیشی اور مانیتری شہر ملے یہ شہر دیکھنے کے قابل تھے مگر ہم نہیں اترے ان شہروں کی خوبصورتی بہت سی ہے۔ پانچ بجے سے جنیوا لیک شروع ہوا۔ یہ عجیب و غریب جھیل ہے۔ پہاڑوں سے پانی اس جھیل میں گرتاہے۔ دنیا میں بہترین جھیل سمجھی باقی ہے۔ ایک طرف توسر بہ فلک پہاڑ ہیں۔ یہ پہاڑ تو اس قدر بلند ہیں کہ ایران کے نیچے رہتا ہےابر اس وقت آیا ہوا تھا ان پہاڑوں پر ابر اس طرح معلوم ہو رہا تھا کہ برف جمی ہوئی ہے بہت سے بر کے پہاڑ بھی ملے اس لیک کے ایک طرف تو پہاڑوںکا سلسلہ ہے دوسری طرف مکانات ہیں۔ یہ جنیوا لیک عجیب دلفریب ہے۔ میں اس کی خوبصورتی بیان نہیں کرسکتی۔ دیکھنے سے تعلق ہے۔ چھ بجے ہماری ٹرین ڈملی اسٹیشن پرپہنچی۔ ہم لوگ ریل سے اترکر ٹریم کار میں سوارہوئے آدھ گھنٹہ ٹریم میں بیٹھنا ہو۔ ایک طرف جنیوا لیک دوسری طرف آبادی ہی آبادی تھی پہاڑوں پر اور اس کے دامن میں بستیاں بسی ہوئی ہیں۔ بیچ سے سڑک ہے جس پر ٹریم موٹراورگاڑی وغیرہ چلتی ہے ساڑھے چھ بجے ہم لوگ ہوٹل ڈی اپلیس میں پہنچے۔ یہ ہوٹل نہایت عالیشان ہے۔ دراصل اس میں بادشاہ رہ سکتے ہیں اس کا ڈرائنگ روم تقریباً تیس گز لمبا ہے۔ کھانے کا کمرہ بھی بہت بڑا عالیشان ہے۔ اس ہوٹل کے سامنے بہت بڑی زمین ہے جہاں باغ اور چمن اور ٹینس کھیلنے کاکورٹ بھی بنا ہواہے۔ جنیوالیک کےکنارے ہونے کے سبب سےکشتیاں بھی ہوٹل کی ہیں جس کا دل چاہے کشتی میں بیٹھ کرلیک کی سیر کرے۔ ہوٹل کیا ہے کہ جنت کا نمونہ ہے ۔نہایت عالیشان و خوبصورت ہے۔ شہر جنیوا میں گھڑیاں بہت عمدہ بنتی ہیں ایک سے بہتر ایک گھڑی دیکھی۔ سوئٹزرلینڈ کے لوگ نہایت سنجیدہ اورملنسار ہوتےہیں ان لوگوں کے چہرے ساخت میں لمبوترےہوتے ہیں یورپ کےہر حصہ کے لوگوںکا نقشہ الگ ہوتا ہے۔ صرف رنگ گورا ہوتاہے مگر چہرہ کی ساخت الگ ہوتی ہے۔ یہاں کی زبان سوئس ہے۔ یہاں بیل سے کام لیاجاتاہے۔ گاڑیاں بیلوں کی ہیں اور ہل بھی بیل سے چلاتےہیں۔ یہاں کے مکانوں کی وضع خوبصورت نہیں ہے اور اکثر سفالپوش ہیں۔ شہر کے مکانات بھی اکثر سفالی ہیں۔ یہاںکاحسن معمولی ہے البتہ منظر ہر جگہ کالاجواب ہے۔

خلیفہ عبدالمجید ثانی سے شرف نیاز

عصر کےقریب گرینڈہوٹل ڈی ایلپس میں جب ہم لوگ داخل ہوئے تو منیجرہوٹل نے کہا کہ آپ کا انتظار ہو رہاہے۔ منیجر نے بذریعہ ٹیلیفون پرائیویٹ سیکرٹری کو اطلاع دی (ہوٹلوں میں ہر کمرے میںٹیلیفون رہتا ہے) پرائیویٹ سیکرٹری نے ہم لوگوں کو ڈرائنگ روم میں لےجا کر بٹھایا اور یہ کہہ کر ہز میجسٹی کو آپ کے آنےکی اطلاع دینے جاتاہوں، چلے گئے۔ چند لمحوں کےبعد واپس آ کرکہا چلئے ہر مجیسٹی برآمدہوئے چنانچہ دوسری منزل پر ہم گئے۔ ایک مختصرکمرہ میں حضرت خلیفہ ایک بڑی کرسی پر جو سرخ مخمل سے منڈھی ہوئی تھی، جلوہ  افروز تھے۔ ایک گول میز سامنے تھی جس پر کچھ کتابیں اور اخباررکھے تھے۔ ہم کو جب مسٹر کرامت بے اندر لے گئے تو حضرت کھڑے ہوگئے اور اپنا داہنا ہاتھ سینےپر رکھ کر گردن جھکائی۔ ہم لوگوں نےباری باری سے دست بوسی کی ۔ہاتھ کااشارہ کرکے مجھ کو اس کرسی پر بٹھایاجوان کے سامنے رکھی تھی۔

بیرسٹر صاحب بائیں جانب والی کرسی پربیٹھ گئے لیکن قبل بیٹھنے کے پرائیویٹ سیکرٹری نے داہنا ہاتھ سینہ پر رکھ کر حضرت خلیفہ کو سلام کیا مزاج پرسی ہورہی تھی کہ حضرت ملکہ شاہوار خانم مدظلہ تشریف لائیں۔ ہم لوگوں نے دست بوسی کی اورحضرت خلیفہ کی داہنی جانب جو مخمل سے منڈھی ہوئی ایک اوربڑی کرسی رکھی تھی اس پر تشریف فرماہوئیں۔ ان کا لباس سفیداور سترپوش تھا۔ سر کےبال مطلق دکھائی نہیں دیتےتھے۔ صرف چہرہ کھلاتھا۔اصل اسلامی پردہ ملحوظ رکھتی ہیں۔ میںچند تحفے ساتھ لیتی گئی تھی۔ جس میں میری ایک تصنیف بھی تھی۔حضرت ملکہ نےمجھ سے فرمایا کہ آپ اپنے ہاتھ سے میرا نام اس کتاب پر لکھئے۔ اس وقت حضرت ملکہ کا اسم گرامی پرائیویٹ سیکرٹری سے دریافت کرنے پر معلوم ہواکہ شاہو از خانم ہے۔ بہت سی باتیں مختلف مبحث پررہیں حضرت ملکہ نے مجھ سے جب فرمایامیری جلاوطنی کےزمانہ میں آپ پہلی مسلم خاتون ہیں جو دور دراز کا سفر اختیارکرکے ہم لوگوں سے ملنےاور اظہارِہمدردی کرنے آئیں۔ جس کی میں دل سے قدر کرتی ہوں تو حضرت ملکہ کے چشم مبارک سے آنسو ٹپک پڑے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضر ت خلیفہ اور حضرت ملکہ نے بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ آج رات کا کھانا آپ لوگ میرے ساتھ کھائیں اور میرے مہمان رہیں۔ ہم لوگوں نے شکریہ ادا کرکے منظور کیا پھر فرمایاجب سے ہم ترکی سے آئے ہیں آپ مسلم ہندی پہلی خاتون ہیں جو ہمارے ساتھ کھانا کھائیںگی۔ میں تمام عمر آپ کی عنایت کو نہ بھولوں گی۔ رخصت ملکہ نے فرمایا کہ آپ کی صورت ترکی کی خواتین میں ملتی ہے۔ کیا حیدر آباد کی سب مستورات ایسے ہی ہوتی ہیں یا آپ کا خون ترکی ہے؟ یہ سن کر مجھے تعجب ہوا میں نے کہامیر ےدادا صاحب ترکی کے رہنے والے تھےاورمیرا ننہال ایرانی ہے۔ اب تو ہم حیدر آبادی ہیں۔ شب کے آٹھ بجے ہم سب کھا کے کمرے میںگئے۔ یہ ہوٹل کا عام کھانے کا کمرہ نہ تھا بلکہ ایک مختصر سا کمرہ تھا جس میں چھوٹی ہی میز تھی اور پانچ کرسیاں اس کے گردرکھی تھیں۔ حضرت خلیفہ صدر میں بیٹھے ان کے داہنی جانب حضرت ملکہ اوران کے برابر میں حضرت خلیفہ کےبائیں جانب بیرسٹر صاحب ان کےبرابرمسٹر کرامت بیٹھے کھانے کے وقت ملکہ بار بار میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ فرماتی تھیں مجھے یہ صحبت اور آپ کی محبت ہمیشہ یاد رہے گی آپ میری اسلامی بہن ہیں۔ حضرت ملکہ کی بہت سی حسرت بھری گفتگو میرے دل کو پاش پاش کرتی تھی۔ حضرت خلیفہ جو بیرسٹر صاحب سے باتوں میں مصروف تھے۔ فرمانے لگے مجھے اپنا مطلق خیال نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا جو کچھ خیال اور فکر ہے وہ یہ ہے کہ اسلام نرغہ اعدا میں گھراہے۔ ایسی حالت میں خلافت کی پامالی اسلام کو اورخطرے میں ڈال رہی ہے۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعدہم سب نشست کے کمرے میں گئے۔ حضرت خلیفہ خود سگریٹ نوش نہیں فرماتے۔ بیرسٹر صاحب سے کہاکہ سگریٹ سلگایا جائے لیکن بیرسٹر صاحب نے پاس ادب سے انکار کیااورشکریہ ادا کیا۔ بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ بارہ کے قریب دونوں صاحبوں نے فرمایا کہ چھ سات گھنٹے کا سفر کیا ہے ضرر کلمندی ہوگی اور آپ دونوں صاحبوں کو آرام کرناچاہئے انشااللہ صبح کو ملیں گے۔ مسٹر کرامت بے نہایت اعلیٰ درجہ کے سجاوٹ کے ایک وسیع پلنگ کے کمرے میں ہم لوگوں کو لے گئے جو ہمارے لئے پہلے سے مخصوص کرلیاگیا ہوگا۔ صبح کو جب ہم چائے و ناشتہ سے فارغ ہو کر مسٹر کرامت بے سے ملے اور نو بجے کی ٹرین سے واپس جانے کاارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا کہ شب کو حضرت خلیفہ نےارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگ ایک بجے کی ٹرین میں لنچ تناول کرنے کے بعد جائیں اور امیر المومنین مع حضور ملکہ گیارہ بجے برآمد ہوںگے آپ ایک بجے کی ریل سے تشریف لے جایئے ہم کو ٹھہرناہوا اور تینوںآدمی مل کرتیراتے کی سیر کو نکلے۔ سوئٹزرلینڈ ایک کوہستانی ملک ہے۔ یہاں کے مناظر دنیا میں بینظیر ہیں گو کشمیر کو ایشاکا سوئٹزرلینڈ کہاجاتا ہے مگر کشمیر کو اس سے کیا مناسبت ہوسکتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں جہاں پہاڑوںاور پہاڑیوں کی افراط ہے وہاں جھیلوں کی بھی کثرت ہے۔ لیک جنیو جومشہور جھیل ہے اس کے اطراف چھوٹے چھوٹےشہر پہاڑوں پر ہیں اور کچھ حصہ ان کا سطح پر آباد ہے مثلاً دیشی جنیوا لوزان (جہاں جنگ کی اخیر کانفرنس ہوئی تھی) مونترے اور تراتے بھی نہایت دلکش و خوش منظر صحت اور پرفضا مقام ہے دو ہزار فٹ سے چار ہزار فٹ سطح سمندر سے بلند پہاڑیوں کا سلسلہ ہے۔ تمام سبزہ زار آبشار اور چھوٹے بڑے مکانات ان پہاڑیوں پر ہیںہر مکان کے گرد و پیش خوشنما چمن اقسام کے خوبصورت پھولوں سے لدا برا عجیب لطف دکھاتا ہے۔ ان پہاڑوں اور پہاڑیوں پر دکانیں کل ضروریات زندگی کی موجود ہیں۔ چھوٹے بڑے کئی ہوٹل بھی ہیں گرجے بھی ہیں سڑکیں چکر دار اوپر جانے کے لئے کئی ہیں غالباً آٹھ ہیں۔ ٹرین لو کو موٹیو والی یعنی انجن سے چلنے والی الگ جاتی ہے جس طرح اوٹ کا منڈنلگری پر جاتی ہے۔ علاوہ اس کے الیکٹرک ٹریم کار تمام پہاڑوں پر دوڑتی پھرتی ہے۔ علاوہ ان کے پانی اور بجلی کی قوت سے چلنے والی ایک بڑے خانہ کی گاڑی جس کو فلنکر کہتے ہیں۔ سیدھی دوہزار فٹ تک جاتی ہے۔ ہر گھنٹہ ایک اوپر جاتی ہے اور ایک نیچے جاتی ہے۔ یہ ایک عجیب حیرت انگیز چیز ہے۔ چنانچہ اسی فلنکر پر بیٹھ کر ہم لوگ اوپر گئے اوپر سے چاروں طرف کے مناظر دیکھے قدرت خدا کے نمونے تھے۔ یہ قدرت اور انسانی ہاتھوں کی صنعت نے مل کر عجیب کرشمے پیدا کردیئے ہیں۔ مونٹ ایلپس میں برف کا پہاڑ بھی ہے جو یہاں سے بالکل قریب ہے اور یہاں سے  نظر آتا ہے۔ تیراتے میں ایک قدیم قلعہ بھی ہے جو چھ سو سال کا بتلایا جاتا ہے۔ گیارہ بجےہم ہوٹل میں واپس آئے ۔ بارہ بجے لنچ کےوقت اسی کمرےمیں گئے جہاں رات کو کھانا کھایا تھا۔ نشستوں کی وہی ترتیب تھی حضرت خلیفہ فرمانے لگےآج جمعہ کادن کسی قدر مبارک ہےہمارے ساتھ دو مسلم بھائی بہن کھانا کھا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیاکہ میرے جذبات اس وقت خوشی اورمسرت اور رنج و الم دو قسم کے ہیں۔ خوشی اور مسرت کے اس لئے کہ مجھے اس وقت مشرف و فخر حضرات کے ساتھ کھانا کھانے کا ہے اور رنج و الم اس لئے کہ حضرت کو اس حالت میں دیکھ رہی ہوں بعد تناول لنچ جب ہم لوگ نشست کے کمرے میں جانے لگےتو حضرت خلیفہ جلد جلد قدم بڑھاکرآگے تشریف لے گئے اور دروازہ نشست کے کمرہ کا کھول کر ہمارے انتظار میں کھڑے ہوئے۔ میں چاہتی تھی کہ جلد جائوں مگر حضور ملکہ میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالے خراماں خراماں چل رہی تھیں۔ بیرسٹر صاحب اور مسٹر کرامت بے باتیں کرتے ہوئے ہمارے پیچھے آ رہےتھے۔ جس وقت ہمارے انتظارمیں دروازہ کا پٹ پکڑے حضورخلیفہ کھڑے تھے اس وقت کا سماں میرے دل کو ہلارہا تھا۔ اللہ اکبر آل عثمان کاخلیفہ جس کے آبائواجداد نے یورپ میں پانچ سو سال خلافت کومزین رکھاہو اور صدیوں مسیحی یورپ میں چل چل ڈال دی ہو آج اس طرح وہ میرے لئے دروازہ کھول کر کھڑاہے جس وقت میں رخصت ہونے لگی حضور ملکہ نے مجھے گلے لگایا اوربہت سی دعائیں دیں۔ میری ساڑھی کی بیل کی چمکی حضور ملکہ کی پوشاک میں اٹک گئی تو فرمانے لگیں اب ہماری آپ کی محبت مستحکم ہوگئی اور انشااللہ کبھی کم نہ ہوگی۔ لباس بھی ایک دوسرے سے مل گیا پھر صاحب زادی صاحبہ کو بلاکر ملایا جنہوں نے سلام کرنے میں سبقت کی میں نے سلام کاجواب دے کر پیار کیا اور دعائیں دیں۔ حضور خلیفہ و حضور ملکہ سے رخصت ہو کر ہم لوگ سٹیشن آئے۔ پرائیویٹ سیکرٹری سٹیشن تک پہنچانےآئے۔ حضور خلیفہ کی ایک ہی ملکہ ہیں اور ایک ہی صاحبزادہ اور ا یک ہی صاحبزادی اور ایک پوتی۔ صاحبزادہ صاحب بضرورت فرانس تشریف لے گئے تھے۔ واضح رہے کہ حضرت عبدالمجید ثانی سلطان عبدالعزیز مرحوم کے جو 875تک قبل آغاز جنگ روس خلیفہ تھے فرزند ہیں۔ ان کی گفتگو اور طرز روش سے خلق و حلم و متانت و بردباری اور چہرے سے جلالت ہویدا و آشکار ہے۔ حضرت کا سن شریف ساٹھ کے لگ بھگ ہے مگر قوی نہایت مضبوط ہیں۔ اسلام کے سچےہمدرد و محب سیاسیات موجودہ یورپ سے بہت باخبر معلوم ہوئے ان کو معہ چند نفوس کے ایلپس ہوٹل میں زندگی کے بقیہ دن گزارتے ہوئے دیکھ کر قدرت خدا یاد آتی تھی۔ حسرت و تاسف کا دریا دل میںامنڈ رہا تھا۔ جس نے قصر بلدیز وولہ باخچہ میں پرورش پائی ہو اورکچھ عرصہ تک دنیائے اسلام میں امیر المومنین کہلایاہو وہ آج اس حالت میں نفس شماری کررہاہو جس کے آبائو اجداد نے چھ سو سال کس جبروت و جاہ و جلال سے اقالیم یورپ و ایشیامیں شہنشاہی کی ہو۔ مسیحی یورپ کو ناکوں چنے چبوا رہے ہوں۔ وہ آج دوسروں کا دست نگرہو۔ فاعتبرو یااولی الابصارخدا سے برتر حضور نظام دکن کو اورفرمانروائے بھوپال کو اجر دارین عطا فرمائے گا جنہوں نے اس لئے کسی اور بے بسی اورتکلیف کی حالت میں حضرت خلیفہ کی دستگیری کرکے ہمدردی اسلام کاسچاثبوت دیا۔ دونوں سرکاروں نے جو کچھ مقررکیاحضرت خلیفہ کے لئے اس وقت نعتم غیرمترقبہ ہے۔اگرترکوں نےاپنی کسی مصلحت سے خلیفہ اورجملہ اراکین آل عثمان کو جن کی تعداد ایک سو پندرہ بتلائی جاتی ہے ملک سے نکال باہر کیا تھا تو ان کے خور دو نوش کا کچھ توسامان کیا ہوتا۔ نہیں معلوم یہ کیسااسلام اور کیسی انسانیت ہے ترکوں کو اگر خلافت کی ضرورت نہیں ہے نہ سہی لیکن دنیائےاسلام کےلئے اس کا وجود لازمی ہے۔ خلیفہ وقت کو دنیاوی اقتدار نہ سہی تو روحانی حیثیت ضروری ہونی چاہئے۔ جو چیز عرصہ درازسے خلفائےوقت میں مفقود تھی۔ بہرحال اب یہ دیکھنا ہے کہ آئندہ سال بمقام قاہرہ جو کانفرنس ہونے والی ہے اس میں خلافت کے متعلق کیا طے پاتا ہے۔

ایک بجے کی ٹرین میں ہم تراتے سے روانہ ہوئے۔لوز ان میں ریل بدلنا ہوئی۔ لوز ان بہت خوبصورت شہر ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں ترکی اور یونان کی جنگ کی بابت صلح کی کانفرنس ہوئی تھی۔ برلن جو سوئٹزرلینڈ کا پایہ تخت ہے یہ شہر بھی اچھا ہے۔ شام کے آٹھ بجے زیورچ پہنچے۔ دل کو یہ خیال بے چین کر رہا تھاکہ میرا پیارا بھائی مہدی علی مرزاکہاں ہے خداجانے آیا ہے یا نہیں اگر جنیوا سے نہ آیا تو پھر چار سال کی جدائی ہے۔ خداجانے کب میں اس سے ملوں گی۔ یہ خیال دل کے اندر ہی اندر ہوش زن تھا۔ خدا جانے مہدی آتے بھی ہیں یا نہیں۔ ہوٹل میں آئے ، کھاناکھایا۔ کھانے کےبعد میں اپنے کمرے میں بیٹھی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی کہ خدایا میرابھائی مہدی آجائے کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا میرے دل سے یہ دعا نکلی یااللہ میرا بھائی مہدی ہو۔ یہ کہہ کر دروازہ کھول دیا کیا دیکھتی ہوں مہدی آئے۔میں نےان کو سینے سے لگا لیااور بیرسٹرصاحب نےبھی انہیںگلے سے لگالیا۔ میری آنکھ سے مسرت کے آنسو جاری ہوگئے۔ میں بیان کر نہیں سکتی میری جان سے زیادہ عزیز پیارے بھائی کو سینہ سے لگا کر میرے دل کی کیا حالت ہوئی۔ ان کےساتھ مولوی برکت اللہ صاحب بھی تھے مجھے ان کا خیال بھی نہ رہا۔ محبت کے جوش میںآنسو ٹپکنے لگے۔ یہ میرا سب سے چھوٹا بھائی ہے۔ جب یہ بائیس دن کا تھاوالدہ صاحبہ نے قضا کی۔ جب یہ د و مہینے کا ہوا والد صاحب دنیاسےرخصت ہوئے۔ یہ بھائی نہیںمیرا بچہ ہے۔ میری آنکھ کا نور، دل کا سرور، میرے ہر ایک غم کی د وا بھی ہے خدااس کو کامیاب کرے۔ جرمنی تعلیم کے لئے جارہے ہیں۔ سائنس میں بی اے کی ڈگری ماشا اللہ اکیسویں سال لی ہے۔ خدا اس کو چشم زخم سے بچائے۔ مہدی سے حیدر آباد کی کیفیت دریافت کی باتوں سے جب فرصت ملی تو مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہوئی۔

شہر زیورچ کے حالات

 6 ستمبر 1924

گیارہ بجے ٹامس کک کے شارابوں میں سوار ہو کر شہر زیورچ دیکھنے نکلے۔ فی آدمی دس سوئیس فرانک دینا ہوتا ہے۔ ہان ہاف اسٹریٹ سے جو یہاں کی بہترین تجارتی سڑک ہے روانہ ہوئے۔ پہلے نیشنل میوزم میں گئے۔ ایک کمرے میں گئے۔ جہاں زمانہ جاہلیت کے جھونپڑیوں کے نمونےرکھے ہوئےہیں اورقدیم قبریں رکھی ہیں۔ امیروں کی چند ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں۔ ایک مردے کی ہڈیاں دوہزار سال قبل کی تھیں۔ اس کمرے میں گئے جہاں ابتدائی زمانے کےمٹی کے برتن اورلوہے کے کچھ اوزار کاٹنے اورکھودنے کےہیں۔ اسی طرح سے مختلف کمرےدیکھے جس جس طرح سے بتدریج زمانے نےترقی کی معاشرت میں ترقی ہوتی گئی۔ تمدنی حالت درست ہوتی گئی۔ کپڑا بننا اور کپڑاپہننا سیکھا ابتدائی زمانے کے کپڑے برتن مٹی کے بجائے تانبے ، پیتل کے برتن استعمال کئے جانے لگے۔ غرض ہر قسم کی قدیم چیزیں موجود ہیں۔ ایک کمرے میں بچائے قدیم سامان رکھا ہوا ہے پہلے زمانے میں دیگچہ زنجیروں میں لٹکا کر کھانا پکاتے تھے۔ 1400میں جو مکان بنتے تھے وہ اٹھا کر رکھ دیئے ہیں اسی طرح 1500 ، 1600، 1700 کے کمرے قلعوں اور قصروں میں سے اٹھاکر لا کر رکھے ہیں۔ گھوڑے پر پہلے زمانے میں سازوسامان کس طرح استعمال ہوتا تھا وہ سب موجود ہے۔ وہ گاڑی جس پر ڈاک جاتی تھی وہ رکھی ہوئی تھی۔ برف پر ہرن جوت کر گاڑی چلائی جاتی تھی جس کو سلج کہتے ہیں۔ وہ مختلف زبانوں کےہیں۔ میوزیم سےہو کر یونیورسٹی گئے وہاں کے مکانات دیکھے جس میں علوم کےمختلف شعبے ہیں۔ جنگلات زراعت معدنیات وغیرہ کی تعلیم ہوتی ہے۔ یہاں طلبہ کو چاہے وہ امیر یا غائب ہائی سکول تک برابر مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ کتابیں بھی مفت دی جاتی ہے۔ اسٹیٹ کی طرف سے اخراجات دیئے جاتے ہیں گرمیوں میں بغرض ترقی صحت پہاڑوں پر طلبا بھیجے جاتے ہیں جس کے اخراجات اسٹیٹ دیتا ہے۔ یہ عجیب طریقہ کی تعلیم مفت دی جاتی ہے جرمنی و لندن وغیرہ میں ایساطریقہ نہیں ہے۔ اس سے ہر شخص تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ یہ بہت اچھا انتظام ہے۔ سوئس گورنمنٹ کے پاس دولت بہت ہے کیونکہ وہ کبھی جنگ میں شریک نہیں ہوئی۔ وہاں سے سول ہسپتال کی طرف سے ہوتے ہوئے جو آبادی پہاڑوں پر ہے۔ اس پر گئے شہر کے دو حصے ہیں قدیم آبادی اور جدید آبادی جو چالیس سال سے شروع ہوئی ہے۔ دو پہاڑوں پر ہے جس کا رقبہ تخمینہ تیس مربع میل ہے۔ اس مقام سے عجیب دل فریب نظارہ سطح کی آبادی کا دکھائی دیتا ہے جس کا بہت بڑا حصہ زیورچ لیک جھیل کے کنارے آباد ہے تمام شہر زیورچ کا ہتھیلی میں دکھائی دےرہا ہے جس وقت ہماری موٹر پہاڑوں پر سے گزر رہی تھی نہایت پیارا منظر تھا۔ زیورچ شہر تمام ملک سوئٹزرلینڈ میں سب سے بڑا شہر ہے۔ دارالسلطنت برلن سے بلحاظ رقبہ و آبادی و تجارت بھی بہت بڑا ہے۔ وہاں سے قبرستان دیکھنے گئے۔ یہ قبرستان بھی بہت بڑااور نہایت صاف اور باغ اورچمن سے آراستہ ہے۔ مردے جلانے کاایک امکان الگ بنا ہوا ہے۔  وہاں ہوٹل میں آئے۔مولوی برکت اللہ صاحب تشریف لائے۔ اپنی تصنیف جو خلافت پر لکھی ہے مجھے دی ہے کہ میں چھپوا دوں۔ میں نے کہا میں وعدہ نہیں کرسکتی کہ میں چھپوا دوں گی لے جاتی ہوں اگر ہوسکا تو چھپوا دوں گی ورنہ واپس کردوں گی۔ بیرسٹر صاحب کو انہو ںنے انگریزی کتاب دی جو خلافت پر لکھی ہے۔

Further Reading

Source: Sughra Humayun Mirza, Sair-i Yurap (Hyderabad, 1926).

Safarnama-yi Yurap  (PDF of edited Urdu text.)

Safarnamah-i Yurap Original (PDF of original scanned Urdu text)